Categories
Latest Articles in Urdu

Ram Mandir – Asal Mansooba

 16 total views,  1 views today

اصلی منصوبہ کچھ اور ہی تھا جس کے تحت سادھو ، سنتوں کو بھی کنارے کردیا گیا
’’ایودھیا کے لیے بی جے پی کا اصل منصوبہ، رام کے نام پر عوام کے مذہبی جذبات کو بھڑکاتے ہوئے، متعلقہ سیاسی فوائد کے ساتھ پارٹی کے لیے ایک دیرپا مالی منصوبے کی سمت اس کی وسیع تر حکمت عملی تھی۔‘‘
بھارت میں جس طریقے سے حکم راں جماعت بی جے پی نے گزشتہ 32 سالوں کے دوران ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر رام مندر ہونے کی جو تحریک چلائی ہے اس کا اولین مقصد تو پارٹی کو اقتدار سے ہمکنار کرانا تھا اس کے ساتھ ہی ایک اور وسیع تر منصوبہ تیار کیا گیا تھا جس سے کہ پارٹی کو رام مندر کے ذریعے مسلسل مالی فوائد بھی حاصل ہوتے رہیں۔ اس منصوبے کی حکمت عملی کے لیے پارٹی نے سیاسی رہنماؤں کے علاوہ کارپوریٹ کنسلٹنٹ سے بھی تعاون حاصل کیا۔
اگر ہم ماضی کا جائزہ لیں تو پائیں گے کہ جنوری 2021 کے پہلے ہفتے میں گاندھی نگر، گجرات میں منعقد ہونے والے RSS کے قومی کنونشن میں، رام مندر کا منصوبہ اور ایودھیا میں تعمیرات کے ساتھ ساتھ رام مندر فنڈ جمع کرنے پر بات کی گئی تھی۔ وشوہندو پریشد کے نائب صدر اور شری رام جنم بھومی تیرتھ شیترا ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ رام مندر ایک قومی مسئلہ ہے نہ کہ سیاسی مسئلہ، اور ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ عظیم الشان رام مندر کی تعمیر کا کام جلد ہی شروع کیا جائے گا اور ایسا ہی ہوا بھی چنانچہ جنوری2024 میں ایک عالی شان رام مندر عوام کے سامنے پیش کردیا گیا۔
رام کے دور کو دوبارہ قائم کرنا
رپورٹس کے مطابق، ایودھیا کو رام کے ’تریتا یوگ‘ کی شان میں لے جانے اور سالانہ رام بھکتوں کی تعداد میں اضافہ کرکے ویٹیکن اور مکہ کو پیچھے چھوڑنے کے شاندار منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ بین الاقوامی مشاورتی فرم پرائس واٹر ہاؤس کوپرز (PwC) نے اس شاندار تبدیلی کے لیے بلیو پرنٹ تیار کیا تھا جس کے مطابق دریائے سریو کے کنارے ایک وسیع و عریض ویدک گاؤں میں رام کے دور کو دوبارہ تخلیق کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جانا تھا۔ PwC کے لے آؤٹ کے مطابق جدید انفراسٹرکچر کے ساتھ ایودھیا کے لیے بھی منصوبہ بنایا گیا تھا۔ PwC، جس نے موجودہ شہر کے بنیادی ڈھانچے، لاجسٹکس، خدمات اور ماحول کو مکمل طور پر بہتر بنانے کی سفارش کی تھی، اس نے یہ بھی کہا تھا کہ ایک بار رام مندر کی تعمیر کے بعد سالانہ تقریباً دو کروڑ رام بھکتوں کے ایودھیا آنے کی امید کی جاسکتی ہے۔
ایودھیا کی بحالی
اس منصوبے کے تحت ایودھیا میں بڑھتے ہوئے ہجوم کو سہولیات مہیا کرانے کے لیے، بنیادی ڈھانچے کو نہ صرف دولت مندوں کے لیے بلکہ عام رام بھکتوں یا سیاحوں کے لیے بھی تقویت دی جانی تھی۔ ریاستی حکومت نے شہر میں کم از کم چھ 5 اسٹار ہوٹل، سات 3 اسٹار ہوٹل اور 4000 دھرم شالاوں کی تعمیر کا منصوبہ بنایا تھا، جس میں سے بعض کی تعمیر ابھی بھی جاری ہے۔ اس کے علاوہ منصوبے کے تحت ایودھیا کے مٹھوں، مندروں اور گلیوں کی تزئین و آرائش اور خوبصورتی کے منصوبے بھی شامل تھے۔ پانچ RoBs (ریلوے اوور برج) ایودھیا کے اطراف میں بنانے کی اسکیم تھی اور سلطان پور، بستی، پریاگ راج اور وارانسی سے شہر کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے ٹریفک کی نقل و حرکت کے لیے چھ لین میں تبدیل کیا جانا تھا۔اس کے ساتھ ہی مندر تک پہنچنے کے لیے ’رام پتھ‘ کی تعمیر کا منصوبہ بھی تھا جس کا کام ابھی بھی جاری ہے اور اس کی تعمیر کے لیے ایودھیا کے تقریباً 2500 مکانات اور بعض مندر بھی منہدم کر دیے گئے ہیں۔ یہاں یہ باور کرانا بھی ضروری ہے کہ ان 2500مکانوں کے مکین زیادہ تر غیر مسلم ہیں اور وہ سب اپنے سر کے اوپر کی چھت کھونے کے غم میں مبتلا ہیں لیکن کسی کو ان کی سُدھ لینے کا نہ تو وقت ہے اور نہ ہی چاہت ہے کیونکہ ان میں سے بیشتر غریب عوام ہیں، چاہے وہ ہندو ہوں یا مسلمان۔اس کے علاوہ شہر میں ایک نیا بس اڈہ اور ائیر پورٹ بھی تعمیر کیے گئے ہیں اور ساتھ ہی پرانے ریلوے اسٹیشن کی تجدید کاری کے علاوہ اسے بڑا بھی کیا گیا ہے جس سے زیادہ سے زیادہ رام بھکت با آسانی ایودھیا پہنچ سکیں۔
گیم پلان
سپریم کورٹ کے 2020 کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ نئے رام مندر کی تعمیر کی ذمہ داری ایک نئے ٹرسٹ کو سونپی جائے گی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ رام جنم بھومی نیاس اینڈ ٹرسٹ، وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل وغیرہ جیسی تنظیمیں، جنہوں نے 2021 تک رام مندر کی تعمیر کی تحریک چلائی تھی اور مبینہ طور پر اس مقصد کے لیے سو کروڑ روپے اکٹھے کیے تھے ، ان سب کو مندر کے نئے ٹرسٹ سے بالکل الگ تھلگ کردیا گیا ہے۔
اس وقت یعنی کہ 2021 میں سوشل میڈیا پرایک ویڈیو گردش کر رہی تھی، جس میں ایک شخص پانڈے نے VHP کا ایک عہدیدار ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے یہ الزام لگایا تھا کہ اڈوانی کی رتھ یاترا سے پہلے اور بعد میں رام مندر کی تعمیر کے نام پر 1,400 کروڑ روپے اکٹھے کیے گئے تھے۔ وہ واضح طور پر پوچھتا ہے کہ وہ رقم کہاں ہے، اور جمع کرنے کے لیے ایک نئی مہم شروع کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے؟ اس نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ 1990کی دہائی میں اڈوانی اور دیگر لیڈروں کے ذریعہ متنازعہ پلاٹ کی ملکیت پر عدالتی لڑائی کو بی جے پی کے حوالے کرنے کے لیے مذہبی شخصیات پر دباؤ ڈالا گیا تھا۔
اس طرح، نئے مندر کی تعمیر اوراس کے مالی و دیگر انتظامات بی جے پی کے زیر کنٹرول بنائے گئے نئے ٹرسٹ کو سونپے گئے۔ رپورٹس کے مطابق نئے رام مندر اور ایودھیا کے انتظام کے لیے رول ماڈل عیسائیوں کا ویٹیکن شہر اور مسلمانوں کا مکہ مکرمہ ہیں۔کیونکہ مالی طور پر دیکھا جائے تو سعودی عرب اور ویٹیکن سٹی کے دستیاب اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2019 میں سعودی عرب میں عمرہ اور حج کرنے والے زائرین نے تقریباً 12 بلین ڈالر، یا سعودیہ کی کل جی ڈی پی کا 7 فیصد اور اس کی غیر تیل جی ڈی پی کا 20 فیصد زائرین کے ذریعے سعودی حکومت کو حاصل ہوا تھا۔ اسی طرح، ویٹیکن سٹی نے 2013 میں سیاحوں کے ذریعے $315 ملین کی آمدنی حاصل کی تھی۔
یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ گیم پلان کے مطابق، بی جے پی نے پہلے رام مندر کا مقدمہ سادھوؤں اور سنتوں سے ہائی جیک کیا اور اب وہ اس شہر کو ایک مذہبی وسیاحتی مقام میں تبدیل کرنے کے عمل میں ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ اس کے ذریعہ اسے آمدنی کا ایک مستقل ذریعہ مل جائے، جس کا کنٹرول بی جے پی کے لیڈروں کے ہاتھ میں ہو۔یعنی شروع سے ہی بی جے پی کا مقصد یہ تھا کہ کس طریقے سے پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں کو چلانے کے لیے مسلسل آمدنی کا ایک ذریعہ بنایا جائے، اور وہ اسے رام مندر کے نام پر اور ایودھیا کی تجدید کاری میں نظر آگیا۔جس طریقے سے بی جے پی نے تمام سرکاری مشینری اور میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے رام مندر اور نئے ایودھیا کی تشہیر کی ہے اس کے مطابق وہ اپنے گیم پلان میں فتح حاصل کرتے ہوئے نظر آرہی ہے کیونکہ نئے رام مندر کے افتتاح کے محض اگلے تین دن میں ہی چھ لاکھ سے زیادہ رام بھکت نئے مندر کو دیکھنے کے لیے ایودھیا پہنچ چکے تھے۔ اس طریقے سے اگر ایک یا دو کروڑ لوگ بھی ہر سال ایودھیا آتے رہے تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بی جے پی کو کتنی آمدنی اس کے زیرِ انتظام نئے ٹرسٹ کے ذریعے ہوگی اور یہ پیسہ اسے کسی کے ساتھ شیئربھی نہیں کرنا پڑے گا اور نہ ہی اس کا حساب و کتاب کبھی عوام کے سامنے آئے گا۔
مجموعی طور پر رام مندر کے بہانے بی جے پی کا دو نکاتی پروگرام یعنی کہ رام کے ذریعے ملک کے اقتدار پر قبضہ اور ایک کبھی نہ ختم ہونے والا آمدنی کا ذریعہ دونوں ہی اپنے پائے تکمیل تک پہنچ گئے ہیں اور اس فتح کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس دونوں کی ہی طویل مدتی پلاننگ کامیاب ہوسکی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.