![]()
نداے حق
اسد مرزا
17 April 2026
جیسے ۔جیسے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کو ختم کرانے کے لے بات چیت کے دوسرے دور کی رفتار بڑھ رہی ہے ، ایک اہم مسئلہ تنازعہ کے مرکزی پہلو کے طور پر ابھرا ہے: وہ ہے تہران کے دوسرے ممالک میں منجمد اثاثے۔ایران چاہتا ہے کہ امریکہ مذاکرات کے ایک حصے کے طور پر اس کے منجمد اثاثے فری یا غیرمنجمد کردے۔ یہ رقم ایران کو اپنی تباہ حال معیشت کی تعمیرنومیں مدد دے سکتی ہے۔
امریکہ اور دیگر ممالک کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کی وجہ سے ایران کی معیشت برسوں سے کمزور ہے۔ یہ پابندیاں 1979 میں لگائی گئی تھیئں، سب سے پہلے اسلامی انقلاب کے بعد تہران میں امریکی سفارت خانے میں یرغمال بنائے گئے امریکیوں کی وجہ سے ، اور پھر ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگراموں کی وجہ سے ان میں اضافہ کیا گیا۔ ان اقدامات نے تہران کے اپنے اثاثوں تک رسائی کی صلاحیت کو محدود کر دیا ہے ۔
10 اپریل کو، پاکستان میں جنگ بندی کے پہلے دور کے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے، ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر، محمد باقر غالباف نے X پر کہا کہ ایران کے منجمد اثاثے (غیر ملکی بینکوں میں منجمد محصولات) کو کسی بھی قسم کے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے فری یا غیرمنجمد کیا جانا چاہیے۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جنگ بندی کے مذاکرات کے ایک دن بعد، کچھ رپورٹس سامنے آئیں تھیئں کہ واشنگٹن نے ملک سے باہر رکھے ہوئے ایرانی اثاثوں میں سے کم از کم کچھ غیر منجمد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ لیکن امریکی حکومت نے ان رپورٹوں کو فوری طور پر مسترد کر دیا، اور اصرار کیا کہ وہ اثاثے منجمد رہیں گے۔
ایران کے منجمد اثاثوں کا حجم کیا ہے؟
اگرچہ ایران کے منجمد اثاثوں کی صحیح رقم واضح نہیں ہے، لیکن سرکاری ایرانی رپورٹس اور ماہرین نے بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی کل رقم 100 بلین ڈالر سے زیادہ مقرر کی ہے۔ یہ اثاثے تقریباً تین گنا زیادہ ہیں اس رقم سے جو ایران کو ہائیڈرو کاربن یا پیٹرول کی فروخت سے سالانہ حاصل ہوتئ ہے۔
جیکب لیو، جو سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں وزیر خزانہ تھے، نے 2016 میں کہا تھا کہ ایران تمام پابندیاں ہٹانے کے باوجود بیرون ملک منجمد اپنے تمام اثاثوں تک رسائی حاصل نہیں کر سکے گا۔ اس وقت، ایران نے امریکہ اور دیگر ممالک کے ساتھ ایک تاریخی معاہدے پر رضامندی ظاہر کی تھی، اور جس کے تحت پابندیوں میں نرمی کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کیا تھا۔
لیو نے کانگریس کو بتایا تھا کہ درحقیقت ایران اپنے منجمد اثاثوں میں سے صرف نصف تک رسائی حاصل کر سکے گا، کیونکہ باقی پہلے سے وعدے کی گئی سرمایہ کاری یا قرض کی ادائیگی کے لیے مختص تھئ۔ فی الحال، جنگ بندی کے مذاکرات میں تہران کا اہم مطالبہ اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر اپنے منجمد اثاثوں میں سے کم از کم 6 بلین ڈالر کو فری یا غیرمنجمد کرانا ہے۔
منجمد اثاثے کیا ہیں؟
جب کسی شخص، کمپنی یا ملک کے مرکزی بینک کے فنڈز، جائیداد یا سیکیورٹیز کو کسی دوسرے ملک کے حکام یا عالمی ادارے عارضی طور پر اپنے پاس رکھتے ہیں ، تو اس سے یہ اثاثے منجمد ہو جاتے ہیں۔ یہ پابندیوں، عدالتی احکامات یا دیگر ریگولیٹری وجوہات کی بنا پر مالکان کی ان اثاثوں کو فروخت یا استعمال کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیتئ ہیں ۔
اثاثے کسی عدالت، کسی دوسرے ملک یا بین الاقوامی ادارے یا بینکنگ ادارے کے ذریعے منجمد کیے جا سکتے ہیں۔ سرکاری طور پر، ممالک کہتے ہیں کہ وہ مجرمانہ سرگرمیوں، منی لانڈرنگ یا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات پر کسی دوسرے ملک یا کمپنی کے اثاثے منجمد کر رہے ہیں۔
لیکن اس مشق کے ناقدین مغرب کے حریفوں کو نشانہ بنانے کے لیے اس کے منتخب استعمال کی طرف اشارہ کرتے ہیں – مثال کے طور پر، اسرائیل کو حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے، غیر قانونی جنگیں چھیڑنے اور نسل پرستی کے مرتکب ہونے کے بار بار الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے باوجود اس کے بیرون ملک اثاثے کسی بھی ملک نےکبھی بھی منجمد نہیں کیے گیےہیں۔
اس کے برعکس ایران، روس، شمالی کوریا، لیبیا، وینزویلا اور کیوبا ایسے ممالک ہیں جن کے اثاثے غیر ملکی حکومتوں نے منجمد کر دیے تھے ۔ مشترکہ کھلاڑی ۔ امریکہ ہے — کیونکہ ان ممالک نے امریکہ کے خلاف آواز اٹھائی تھی ۔
ایران کے اثاثے کیوں منجمد ہیں؟
امریکی سرکاری آرکائیوز کے مطابق، پہلا اثاثہ منجمد نومبر 1979 میں ہوا جب اس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر نے کہا کہ ایران “امریکہ کی قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور معیشت کے لیے ایک غیر معمولی خطرہ ہے”۔ اس وقت ایرانی طلباء نے تہران میں امریکی سفارت خانے میں 66 امریکی شہریوں کو یرغمال بنا رکھا تھا۔
اس وقت کے سیکرٹری خزانہ ولیم ملر نے صحافیوں کو بتایا کہ اس وقت ایران کے مائع اثاثوں کی مالیت 6 بلین ڈالر سے کم تھی، جس کا سب سے بڑا حصہ نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک کے ٹریژری نوٹوں میں 1.3 بلین ڈالر تھا۔
تاہم، اگلے برسوں میں، امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات میں تلخی بڑہتی رہی، تہران کے جوہری پروگرام پر واشنگٹن بے چین تھا۔ ایران نے ہمیشہ اس بات کو برقرار رکھا ہے کہ اس کا یورینیم افزودگی کا پروگرام صرف شہری توانائی کے مقاصد کے لیے ہے ۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں، خاص طور پر یورپ، نے ایران پر پابندیوں کے کئی دور مسلط کے ہیں، حالانکہ اسرائیل – مشرق وسطیٰ کا واحد ملک جس کے پاس پہلے سے ہی خفیہ پروگرام کے ذریعے بنائے گئے جوہری ہتھیار رکھنے کا وسیع پروگرام ہے، اور جس کو ایسی کسی جانچ پڑتال کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے ۔
2015 میں، ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس پر صدر براک اوباما کی قیادت میں امریکہ نے بات چیت کی تھی، جسے جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA) کہا جاتا ہے۔ معاہدے کے تحت، تہران نے اپنے جوہری پروگرام کو کم کرنے پر اتفاق کیا اور اس کے نتیجے میں، اس وقت بیرون ملک اپنے بیشتر اثاثوں تک دوبارہ رسائی حاصل کر لی۔
لیکن 2018 میں، صدر کے طور پر اپنی پہلی مدت کے دوران، ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر امریکہ کو اس معاہدے سے باہر نکالا اور ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرتے ہوئے اس کے غیر ملکی اثاثے ایک بار پھر منجمد کر دیے۔
اسکیم کے تحت رقم قطر کو نگرانی کے لیے منتقل کی گئی۔ لیکن اگلے سال، ریاستہائے متحدہ کے صدر جو بائیڈن نے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کے جواب میں ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں، جس کے نتیجے میں ایران کی دوحہ میں ان اثاثوں تک رسائی دوبارہ ممنوع ہو گئی۔
امریکہ کے علاوہ، یورپی یونین نے بھی ایران کے مرکزی بینک کے اثاثوں کو جزوی طور پر اس بنیاد پر منجمد کر رکھا ہے کہ ایران مبینہ طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کر رہا ہے، اور جوہری سے متعلق عدم تعمیل، دہشت گردی اور یوکرین کے خلاف روس کی جنگ میں اس کے ڈرون پروگرام کی حمایت کرنے کے الزامات پر بھئ۔
ایران کے منجمد اثاثے کن ممالک کے پاس ہیں؟
اس وقت ہر ملک کے پاس کتنئ رقم ہے واضح نہیں ہے، لیکن ایرانی میڈیا نے پہلے یہ اطلاع دی تھئ کہ جاپان، ایرانی تیل کے ایک اور اہم صارف کے پاس تقریباً 1.5 بلین ڈالر، عراق کے پاس 6 بلین ڈالر، چین کے پاس کم از کم 20 بلین ڈالر اور ہندوستان کے پاس 7 بلین ڈالر ہیں۔ امریکہ کے پاس براہ راست منجمد ایرانی اثاثوں میں تقریباً 2 بلین ڈالر ہیں، جبکہ یورپی یونین کے ممالک جیسے لکسمبرگ کے پاس تقریباً 1.6 بلین ڈالر ہیں۔ قطر کے پاس تقریباً 6 بلین ڈالر ہیں – یہ رقم جو جنوبی کوریا سے ایران کو ادا کرنے کے لیے منتقل کی گئی تھی، لیکن بعد میں امریکہ نے اسے روک دیا تھا ۔
ایران کے لیے اثاثوں کو غیر منجمد کرانا کیوں ضروری ہے؟
ایران کی معیشت اس وقت بحران کا شکار ہے، کئی دہائیوں کی پابندیوں نے اس کی تیل کی برآمدات کو محدود کر دیا ہے اور سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور اس کی صنعت اور ٹیکنالوجی کو جدید بنانے کی صلاحیت کو عملی طور پر ختم کردیا ہے۔
اس پس منظر میں، منجمد اثاثوں میں نقد رقم ہے جسے ایران آسانی سے استعمال کر سکتا ہے، 100 بلین ڈالر ملک کی جی ڈی پی کے تقریباً ایک چوتھائی کی نمائندگی کرتا ہے، جس کا استعمال اس کی معیشت اور انفراسٹرکچر اور شہری خدمات کو بہتر بنانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
