![]()
ندائے حق
امریکہ کو ایران جنگ سے کیا سبق سیکھنےچاہئیں؟
اسد مرزا
ایران اور آبنائے ہرمز میں جاری تنازع ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، لیکن تجزیہ کار پہلے ہی اس سے حاصل ہونے والے اسباق پر بحث شروع کر چکے ہیں۔ سیکیورٹی پالیسی پر لکھے جانے والے مضامین کی ایک نئی صنف، امریکی آپریشن کی مختلف لاجسٹک اور حکمتِ عملی کی خامیوں کو اجاگر کر رہی ہے۔ جیسے کہ تیل اور کھاد کی ترسیل میں رکاوٹوں کے لیے ناکافی تیاری، درست نشانہ باندھنے والے میزائلوں اور انٹرسیپٹرز کے ذخیرے کی کمی، سستے یک طرفہ حملہ آور ڈرونز کا مقابلہ کرنے میں ناکامی، اور مائن سویپرز کی قلت وغیرہ۔
یہ اسباق مستقبل کی جنگوں کے لیے مفید سبق ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن یہ آبنائے ہرمز میں امریکہ کی ناکامی کی بنیادی وجہ نہیں ہیں۔ اگر ان تمام مسائل کو تنازع سے پہلے ہی حل کر بھی لیا جاتا، تب بھی یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اس سے ٹرمپ انتظامیہ کے ابتدائی جنگی مقاصد — ایران میں حکومت کی تبدیلی، ایران کی طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت کی تباہی، یا ایران کی جوہری اور علاقائی پالیسیوں میں بڑی تبدیلی — کیسے حاصل ہو پاتے۔
اگرچہ میزائلوں کے بڑے ذخیرے اور تیل کی قلت سے نمٹنے کی بہتر تیاری سے شاید طویل بمباری مہم یا زیادہ معاشی دباؤ ممکن ہو پاتا، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سات مہینوں کی بمباری یا ناکہ بندی وہ کچھ حاصل کر لیتی جو تقریباً چھ مہینوں میں حاصل نہیں ہو سکا۔ اس فوجی ناکامی کا سب سے ممکنہ نتیجہ یہی نظر آتا ہے کہ ایران کو اپنے جوہری عزائم آگے بڑھانے کی مزید آزادی مل جائے، آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول کہیں زیادہ مضبوط ہو جائے، اور نتیجتاً خلیجی ممالک پر اس کا اثر و رسوخ بڑھ جائے۔
امریکی فوج بدستور غیر معمولی صلاحیت کی حامل ہے۔ اس نامناسب طور پر منصوبہ بند جنگ میں بھی اس نے وہ تکنیکی صلاحیتیں دکھائیں جن کا کوئی دوسری فوج مقابلہ نہیں کر سکتی — امریکی ساحلوں سے 7000 میل دور طاقت کا مظاہرہ کرنا، اور دنیا کی توقع کے عین مطابق آسانی سے ایران کی فضائی حدود پر کنٹرول حاصل کرنا اس میں شامل ہے ۔
اس کے نتیجے میں ہونے والا نقصان انتہائی غیر متوازن رہا: امریکہ کے کم از کم18 فوجی ہلاک اور 600 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ ایران کے جانی نقصانات ہزاروں میں ہونے کا امکان ہے ۔ مختصراً، منصوبہ بندی اور لاجسٹک کی خامیوں کے باوجود امریکی فوج نے ثابت کیا ہے کہ وہ بدستور انتہائی خطرناک ہے۔
لیکن کوئی بھی تکنیکی برتری اس حکمتِ عملی کی نااہلی کی تلافی نہیں کر سکتی جو فوج سے ناممکن کام کروانے کا تقاضا کرتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے فوج سے ایک نہیں بلکہ تین ناممکن کام کرنے کا مطالبہ کیا، اور جب یہ ناکام ہوئے تو غصے سے حیرت کا اظہار کیا۔
پہلا ناممکن کام یہ تھا کہ زمینی آپریشن کے بغیر محض فضائی طاقت سے ایران میں حکومت کی تبدیلی لائی جائے۔ صرف فضائیہ کے ذریعے فیصلہ کن فتح حاصل کرنا دنیا بھر کی آزاد فضائی افواج کا دیرینہ خواب رہا ہے، جب سے اطالوی نظریہ ساز جیولیو ڈوہے نے 1921 میں پیش گوئی کی تھی کہ مستقبل کی جنگیں محض بمباروں سے جیتی جا سکتی ہیں، حتیٰ کہ 1928 میں یہ بھی کہا تھا کہ ایک متوسط حجم کے ملک پر محض 300 ٹن بم گرانے سے ایک ماہ میں جنگ ختم ہو سکتی ہے۔
لیکن یہ نظریہ کہ جنگیں محض فضا سے جیتی جا سکتی ہیں، جدید صنعتی جنگ کی تاریخ میں سب سے زیادہ آزمائے گئے نظریات میں سے ایک ہے۔ ممکن ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے بغیر کسی بھی سطح کی بمباری سے کسی حکومت کا خاتمہ ناممکن ہو۔ اس کی قریب ترین مثال نیٹو کی سربیا کے خلاف مہم تھی، جہاں سلوبودان ملوسیوچ کی حکومت کے خلاف فضائی کارروائی ہوئی، لیکن وہاں بھی بمباری جون 1999 میں رک گئی تھی جبکہ ملوسیوچ کی حکومت اکتوبر 2000 میں عوامی مظاہروں کے بعد گری۔
چونکہ فضائی طاقت سے ایرانی حکومت کے مکمل خاتمے کا امکان نہ ہونے برابر تھا، اس لیے امریکی فوج سے اگلا ناممکن مطالبہ یہ تھا کہ صرف فضا سے، بغیر خاطر خواہ زمینی فوج کے، ایران کی بیلسٹک میزائل اور ڈرون صلاحیت کو غیر مؤثر بنایا جائے۔ لیکن یہ مشن بھی — ایران کی متحرک لانچ صلاحیت کو ناکارہ بنانا — پہلے بھی کئی بار آزمایا جا چکا ہے اور کبھی کامیاب نہیں ہوا۔
درست نشانہ لگانے والے میزائلوں کی آمد نے بھی اس حساب کتاب کو نہیں بدلا، کیونکہ اس کا توڑ متحرک لانچ نظاموں کی صورت میں نکل آیا۔ خلیجی جنگ کے دوران عراقی اسکڈ لانچرز کو فضا سے تباہ کرنے کی کوششیں ایک بھی تصدیق شدہ تباہی حاصل نہ کر سکیں۔ اسی طرح اسرائیل نے غزہ اور جنوبی لبنان پر دو دہائیوں تک وسیع فضائی آپریشن چلائے تاکہ حماس اور حزب اللہ کے راکٹ حملے روکے جا سکیں، لیکن دونوں جگہ صرف زمینی آپریشنز ہی راکٹوں کو خاموش کر پائے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا آخری متبادل یہ دکھائی دیتا ہے کہ خلیجی تعاون کونسل کے ممالک، جن کی میزبانی پر امریکی فوجی کوشش کا انحصار ہے، کے انفراسٹرکچر کو ایرانی نقصان سے بچانے کے لیے پورے خلیجی خطے میں تقریباً مکمل میزائل دفاع فراہم کیا جائے۔
اگر یوکرین میں استعمال ہونے والے سستے انٹرسیپشن طریقوں میں زیادہ سرمایہ کاری کی جاتی اور علاقے میں مزید قلیل فاصلے کے فضائی دفاعی نظام تعینات کیے جاتے، تو شاید امریکی فوج ایرانی حملوں کو زیادہ فیصد روک پاتی۔ لیکن ایسے ماحول میں جہاں ڈرون اور بیلسٹک میزائل بنانا ان کو روکنے کے ذرائع سے کہیں سستا اور تیز تر ہے، یہ امکان ہمیشہ موجود تھا کہ ایران بالآخر خطے کی دفاعی صلاحیت کو مغلوب کر دے گا۔ دو ناکامیوں کی تلافی ایک اور ناممکن کام سے نہیں ہو سکتی تھی۔
اگر امریکی فوج کو ڈرونز کے خطرات و مواقع، اور فریگیٹس، مائن سویپرز اور مضبوط ہوائی تنصیبات سے متعلق دیرینہ خریداری کے مسائل پر بیدار ہونے کی ضرورت تھی، تو یہ پیغام پہنچ چکا ہے۔ لیکن یہ جنگ محکمہ دفاع کے ایوانوں میں نہیں بلکہ وائٹ ہاؤس کے ایوانوں میں ہاری گئی ہے ۔
تیسرے اگر ٹرمپ فوج سے ناممکن کام کروانے کے خطرے کو نہیں سمجھ پائے، تو یہ ان کے وزیر دفاع کی ذمہ داری تھی کہ وہ انہیں آگاہ کرتے۔ لیکن ٹرمپ نے کوئی تجربہ کار اور اہل وزیر دفاع منتخب نہیں کیا، بلکہ ایک وفادار خوشامدی، پیٹ ہیگستھ کو، جس کی وفاداری اس کی صریح نااہلی سے مزید بڑھی، اسے اپنا وزیر دفاع بنایا ۔
ہیگستھ نے فوج کی اعلیٰ صفوں سے ہر اس شخص کو ہٹانے کی بھرپور کوشش کی جو مخالف رائے دے سکتا تھا۔ امریکی افسر شاہی کبھی بھی سیاسی فیصلہ سازوں کو ناخوشگوار خبریں دینے میں ماہر نہیں رہی ہے ، لیکن ہیگستھ کے طرزِ عمل کا مطلب یہ تھا کہ پینٹاگون کبھی بھی صدارتی نااہلی کے خلاف آواز نہیں اٹھائے گا۔ رپورٹس کے مطابق جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے مشکلات کی نشاندہی کی معمولی سی کوشش کی، لیکن ہیگستھ کی جوش و خروش بھری حمایت نے اسے دبا دیا۔
یہ سب کچھ متوقع تھا اور دراصل اس کی پیش گوئی بھی کی جا چکی تھی۔ چنانچہ اگرچہ ایران میں ہونے والی اس ناکامی کی فوری ذمہ داری ٹرمپ اور ان کے نااہل مشیروں پر عائد ہوتی ہے، لیکن حتمی ذمہ داری وہاں بھی ہے، جہاں کوئی سیاست دان تسلیم نہیں کرے گا: یعنی کہ خود امریکی ووٹرز ۔ یہ امریکی ووٹرز کی اکثریت کا فیصلہ تھا کہ وہ ایک ایسے شخص کو، جو کھلے عام نااہل ہے، ناخوشگوار یا مخالف معلومات قبول کرنے سے قاصر ہے، اور وفادار خوشامدیوں سے گھرا رہنا پسند کرتا ہے، اسےدوبارہ وائٹ ہاؤس واپس لائیں۔
یہ ثابت ہو گیا ہے کہ دنیا کی سب سے طاقتور فوج کے سربراہ کا انتخاب کرنا کسی ریئلٹی شو کے سب سے دلچسپ میزبان کے انتخاب جیسا نہیں ہے ۔ پینٹاگون میں یقیناً “حاصل شدہ اسباق” پر رپورٹس لکھی جا رہی ہوں گی۔ لیکن جیسے جیسے اس متوقع اور شرمناک ناکامی کے اسٹریٹجک اثرات — تیل کی بڑھتی قیمتوں سے لے کر امریکی وسائل کی کمی تک — بڑھتے جا رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا امریکی ووٹرز نے یہ سمجھ لیا ہے کہ کوئی بھی فوجی برتری انہیں ووٹنگ میں کیے گئے اپنے ہی غلط فیصلوں کے نتائج سے نہیں بچا سکتی ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
