Categories
Latest Articles in Urdu

Muslim Duniya ne khoi apni Baasar Awaaz

 4 total views,  1 views today

سیول سوسائٹی اور جمہوریت پسند اداروں کو واچ ڈاگ کا کردار ادا کرنا ہوگا

عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے سیاسی جماعتوں کو چوکس رہنے کی ضرورت۔ بوتھ سطح پر کارکنوں کو منظم کرنا ضروری

نور اللہ جاوید، کولکاتا

لوک سبھا انتخابات آخری مراحل میں ہیں۔ 4؍ جون کو مطلع صاف ہوجائے گا کہ ملک کی باگ ڈور اگلے پانچ سالوں کے لیے کن ہاتھوں میں ہو گی۔دو مہینے کی طویل انتخابی مہم کے دوران بہت سے اتار چڑھاو دیکھے گئے۔سیاسی جماعتوں کی سوچ اور سیاسی لیڈروں کے بے نقاب کردار بھی دیکھے گئے۔ اس طویل انتخابی عمل کے دوران ایک ایسا ادارہ جس کی ذمہ داری آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے اور اس بات کو یقینی بنانے کی تھی کہ ملک کا کوئی بھی شہری اپنے حق رائے دہی سے محروم نہ رہے، نہ کسی کے حق رائے دہی کی چوری ہو اور نہ کسی سیاسی جماعت کے مینڈیٹ پر کوئی اور سیاسی جماعت قبضہ کرلے، وہ اپنی ذمہ ادا کرنے سے قاصر نظر آیا، جس پر ایک خاص سیاسی جماعت کے لیے راہ ہموار کرنے کے الزامات لگ رہے ہیں۔ اگر وہ ادارہ اس پر صفائی دینے اور خود احتسابی کرنے کے بجائے خود سوالات کرنے والوں کی نیت پر سوال کھڑا کرے تو یہ ایک جمہوریت کے لیے اچھی بات نہیں ہے۔

الیکشن کمیشن پر سوالات کوئی پہلی مرتبہ نہیں اٹھائے گئے ہیں ۔پہلے بھی کمیشن پر جانب داری کے الزامات لگتے رہے ہیں مگر اس مرتبہ صرف جانب داری برتنے اور حکم راں جماعت کے سامنے سرنگوں ہونے کے الزامات کے ساتھ ساتھ حق رائے دہی پر ڈاکہ اور مینڈیٹ کی چوری کرنے کے الزامات بھی لگ رہے ہیں۔ ویسے اس مرتبہ بھی سیاسی لیڈروں کو فرقہ واریت کے سہارے مذہب کے نام پر ووٹ مانگنے اور ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑاتے ہوئے دیکھا گیا ہے ۔علاوہ ازیں جدید بد عنوانیوں مثلاٌ بے دریغ خرچ، غلط معلومات اور نفرت انگیز تقاریر کا سلسلہ بھی جاری ہے، یہاں تک کہ حریف امیدواروں کو امیدواری سے دستبرداری پر مجبور کیا گیا، پولنگ کے دوران بوتھوں پر قبضہ کیاگیا،  ووٹروں کو ڈرایا گیا ہے۔ مسلمانوں کے کئی علاقوں میں کوشش کی گئی کہ وہ ووٹ نہ ڈال سکیں۔ ان سب پر کارروائی کرنے کے بجائے کمیشن خاموش تماشائی بنا رہا ہے ۔19اپریل کو پہلے مرحلے کی پولنگ ہوئی اور اس کے گیارہ دنوں بعد کمیشن نے حتمی ووٹنگ کی شرح جاری کی ۔اس درمیان چار فیصد ووٹوں کا اضافہ ہو گیا۔ پہلے چار مرحلوں کی پولنگ کے بعد کمیشن نے حتمی اعداد و شمار جاری کیے اس میں 1.07 کروڑ ووٹروں کا اضافہ ہوگیا۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق پہلے چار مرحلوں میں 379 حلقوں میں ووٹنگ ہوئی اور اس لحاظ سے فی انتخابی حلقہ 28,000 ووٹوں کا اضافہ ہوگیا۔ سوال یہ ہے کہ کمیشن کو حتمی پولنگ کی شرح جاری کرنے میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟ دوسرے یہ کہ پولنگ کے بعد جاری کیے گئے ابتدائی اعداد و شمار اور حتمی اعداد و شمار کے درمیان اس قدر تضاد کیوں ہوا؟

اس درمیان سپریم کورٹ میں انتخابی شفافیت سے متعلق جاری مقدمے میں ایک غیر سرکاری تنظیم ’’دی ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز ‘‘(ADR) نے ایک درخواست دائر کی ہے جس میں الیکشن کمیشن آف انڈیا سے ووٹوں کی مکمل تعداد کو فوری طور پر شائع کرنے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ اے ڈی آر نے عدالت کی توجہ مبذول کرائی کہ لوک سبھا انتخابات میں الیکشن کمیشن نے مرحلہ وار ووٹروں کے ٹرن آؤٹ کا ڈیٹا شائع کیا ہے۔ 19 اپریل کو ہونے والی پولنگ کے پہلے مرحلے کے اعداد و شمار گیارہ دن بعد اور 26 اپریل کو ہونے والے دوسرے مرحلے کی پولنگ چار دن بعد شائع کی گئی۔ اس کے علاوہ پولنگ کے دن جاری کیے گئے ابتدائی اعداد و شمار سے حتمی ووٹر ٹرن آؤٹ کے اعداد و شمار میں پانچ فیصد سے زیادہ کا فرق ہے۔اس لیے سپریم کورٹ سے درخواست کی گئی کہ فارم 17-سی کو بھی الیکشن کمیشن اپنی ویب سائٹ پر جاری کرے۔ اے ڈی آر نے کہا کہ حتمی اعداد وشمار جاری کرنے میں غیر معمولی تاخیر کی وجہ سے پورا انتخابی عمل مشکوک ہوگیا ہے۔اس لیے عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ فارم 17-سی کو لوڈ کردیا جائے۔دراصل فارم 17-سی وہ فارم ہے جو پولنگ ختم ہونے کے بعد ای وی ایم مشین کو سیل کرنے کے وقت پریسائڈنگ آفیسر بوتھ پر پولنگ کی مکمل تفصیل ایک فارم پر درج کرتا ہے کہ بوتھ پر کتنے ووٹرس تھے، ان میں مرد کتنے اور خواتین کتنی تھیں اور پولنگ کتنی ہوئی۔اے ڈی آر کی طرف سے سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن وکالت کر رہے ہیں جب کہ ایڈووکیٹ ارون کمار اگروال نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے پر

نظر ثانی کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وی وی پیاٹ اور ای وی ایم کے صد فیصد ووٹوں کو ملایا جائے ۔سپریم کورٹ نے تکنیکی بنیاد پر اس درخواست کو مسترد کردیا اور اس کے ایک دن بعد سنیچر کو الیکشن کمیشن  نے مکمل تفصیلات جاری کردیں۔ مگر سوال اب بھی باقی ہے کہ الیکشن کمیشن کو فارم-سی جاری کرنے میں مشکل کیا ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ حتمی ڈیٹا جاری کرنے

میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟ پہلے مرحلے کی ووٹنگ کی شرح شائع کرنے میں کمیشن کو گیارہ دن اور بعد کے تین مراحل کے لیے ہر ایک میں چار دن لگے۔ سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی کہتے ہیں کہ ’’ووٹر ڈیٹا حاصل کرنے میں تاخیر کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ یہ ڈیٹا ریئل ٹائم میں سسٹم میں ہوتا ہے، پولنگ ختم ہونے کے پانچ منٹ کے اندر، تمام معلومات دستیاب ہوتی ہیں۔ الیکشن کمیشن کو جواب دینا چاہیے کہ اتنی تاخیر کیوں ہوئی ہے؟۔

سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن نے فارم-سی پیش نہ کرنے کے لیے جو دلائل دیے ہیں وہ حیرت انگیز ہیں۔کمیشن نے کہا کہ امیدواروں اور ان کے ایجنٹوں کے علاوہ کسی اور کے ساتھ ووٹر ٹرن آؤٹ شیئر کرنے کا کوئی قانونی مینڈیٹ نہیں ہے۔ کمیشن کے سینئر وکیل منیندر سنگھ نے اے ڈی آر کی نیت پر ہی سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ اے ڈی آر کی درخواست بے بنیاد شکوک و شبہات پر مبنی ہے اس کا مقصد الیکشن کمیشن کو بدنام کرنا ہے۔کمیشن نے اس درخواست پر سماعت کی بھی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے ای وی ایم ۔وی وی پیاٹ سے متعلق جو فیصلہ دیا تھا اس میں فارم-سی سے متعلق بھی ہدایت شامل ہے۔ 26 اپریل 2024 کا فیصلہ جامع ہے۔ اے ڈی آر ضمنی نکات کو بار بار نہیں اٹھا سکتا۔ یہ 96 کروڑ ووٹرز پر مشتمل انتخابی عمل کے درمیان تعمیری فیصلہ کا اطلاق نہیں کر سکتا۔ جمہوریت کے اس تہوار میں مفاد پرست عناصر مداخلت کر رہے ہیں۔ عدالت کو ان کے ساتھ سختی سے نمٹنا چاہیے۔جب کہ سینئر وکیل اے ایم سنگھوی نے اس معاملے میں اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ’’ای وی ایم- وی وی پی اے ٹی‘‘ سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کو فارم 17-سی کے ساتھ جوڑنا ایک دھوکا ہے اور فیصلے میں فارم سی سے متعلق صرف ذکر کیا گیا تھا ۔جب کہ اے ڈی آر کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے پرشانت بھوشن نے واضح لفظوں میں کہا کہ جس طریقے سے حتمی ڈیٹا شائع کرنے میں تاخیر کی گئی ہے اور ابتدائی ڈیٹا اور حتمی ڈیٹا میں جو فرق ہے وہ شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے اور اس سے انتخابی عمل پر عوام کے شکوک و شبہات میں اضافہ ہوتا ہے۔اس کا ازالہ صرف فارم-سی کی اشاعت سے ہی ہو سکتا ہے۔

سپریم کورٹ میں یہ معاملہ 2019 سے ہی چل رہا تھا جب عام انتخابات کے اختتام کے بعد طویل عرصے تک الیکشن کمیشن نے ووٹوں کی حتمی تعداد دستیاب نہیں کروائی تھی۔ صرف ابتدائی تعداد شائع کی تھی اور بعد میں اس کو بھی ہٹا دیا گیا تھا۔ 31 مئی 2019 کو انگریزی نیوز ویب سائٹ دی کوئنٹ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے اپنی ویب سائٹ پر شیئر کیا گیا ڈیٹا، دو حلقوں میں ’ووٹر ٹرن آؤٹ‘ اور ای وی ایم پر شمار کیے گئے ووٹوں سے میل نہیں کھاتا ۔کئی حلقوں میں ای وی ایم پر گنے گئے ووٹ ان حلقوں میں ووٹروں کی کل تعداد سے زیادہ تھے۔ان حقائق کے تناظر میں دیکھا جائے تو شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں ۔جسٹس دیپانکر دتا اور ستیش چندر شرما کی تعطیلاتی بنچ نے اس معاملے کی تکنیکی بنیاد پر سماعت ملتوی کرتے ہوئے کہا ’’بڑے پیمانے پر انتخابات کے لیے بھاری انسانی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔وہ انتخابات کے وسط میں الیکشن کمیشن (EC) کی توجہ ہٹانا نہیں چاہتے‘‘۔ سپریم کورٹ انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتی۔

فارم سی کو لے کر الیکشن کمیشن کے رویے کو دیکھا جائے تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کمیشن شفافیت کے تقاضے سے گریز کررہا ہے۔اس نے کمیشن کے طریقے کار میں شفافیت کے لیے بلند ہوتی ہوئی آواز پر ہی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔فارم سی کی تفصیلات شائع کرنے سے متعلق دلیل یہ دی ہے کہ یہ پولنگ بوتھ ایجنٹ اور کمیشن کے پاس ہوتے ہیں اس لیے اس کو عام کرنے کا کوئی قانونی مینڈیٹ نہیں ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ ہزاروں ایسے پولنگ بوتھ ہوتے ہیں جہاں تمام امیدواروں کے پولنگ ایجنٹ نہیں ہوتے ۔اگر اس کو بنگال، تریپورہ اور اتر پردیش جیسی ریاستوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایسے سیکڑوں بوتھ مل جائیں گے جہاں حکم راں جماعت کے علاوہ کسی بھی سیاسی جماعت کا پولنگ ایجنٹ نہیں ہوتا ۔ایسی صورت میں گڑبڑی کے امکانات بہت ہی زیادہ ہوتے ہیں ۔

اے ڈی آر کی سپریم کورٹ میں یہ دلیل کافی مستحکم ہے کہ ووٹر ٹرن آؤٹ کے اعداد و شمار کی قطعی تعداد کے بغیر عام لوگ پولنگ ووٹوں کی تعداد کا موازنہ نتائج میں اعلان کردہ ووٹوں کی تعداد کے ساتھ نہیں کر سکتے۔ پولنگ بوتھ پر ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد اور ای وی ایم کے ذریعے گنے جانے والے ووٹوں کی تعداد کا اندازہ صرف اس وقت لگایا جا سکتا ہے جب الیکشن کمیشن کی طرف سے ہر حلقے کی ووٹنگ کی شرح نہیں بلکہ مطلق نمبر جاری کیے جائیں۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کی دلیل یہ ہے کہ فارم 17-سی تمام پولنگ ایجنٹوں کے لیے ہے، اس کو عام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمل ناڈو کے انفارمیشن ٹکنالوجی اور ڈیجیٹل خدمات کے وزیر پی تھیگا راجن، کمیشن کی اس دلیل کو خارج کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ زیادہ تر امیدواروں (خاص طور پر چھوٹی پارٹیاں اور آزاد امیدواروں) کے پاس فارم-17 کو جمع کرنے اور ترتیب دینے کی صلاحیت نہیں ہوتی کیوں کہ ایک پارلیمانی حلقہ میں 1500 سے 2000 بوتھ ہوتے ہیں اس لیے ووٹوں کی گنتی کا عمل اسی وقت مضبوط اور شفاف ہوسکتا ہے جب فارم-17 کے ڈیٹا کو پولنگ کے بعد جلد از جلد شائع کیا جائے تاکہ گنتی کے مراکز میں موجود ہر امیدوار کے ہر ایجنٹ کے پاس ہر بوتھ کی تفصیل موجود ہو۔تمل ناڈو کے وزیر کہتے ہیں کہ 2019 تک اس تفصیل کو شائع کرنا معمول تھا مگر پراسرار طریقے سے اس کو بند کردیا گیا اور تمام پرانے فارم-17 ڈیٹا کو اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا۔

 جب 15 نومبر 2019 کو الیکشن پر نظر رکھنے والی ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (ADR) اور کامن کاز نامی این جی او نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے ووٹروں کے ٹرن آوٹ ڈیٹا میں مبینہ تضادات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔  درخواست میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے تصدیق شدہ انتخابی اعداد و شمار کے جاری ہونے سے قبل انتخابی نتائج کا اعلان انتخابی نظام میں خرابی کی نشان دہی کرتا ہے۔ موجودہ نظام میں خرابیاں کہیں زیادہ سنگین اور تشویش ناک رجحان ہے اس لیے ان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ میں گزشتہ پانچ سالوں سے اتنی اہم درخواست زیر التوا کیوں ہے؟ انتخابی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے کی ذمہ داری کس کی ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ 2019 میں جو درخواستیں دائر کی گئی تھیں ان میں واضح طور پر یہ کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے جو حتمی اور ابتدائی رپورٹ دی تھی اس میں کافی فرق تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ کئی سیٹوں پر یہ دیکھنے میں آیا کہ کُل ووٹوں سے کہیں زیادہ ای وی ایم مشین میں ووٹ تھے۔ پہلے چار مرحلوں کی حتمی پولنگ کی جو شرح الیکشن کمیشن نے جاری کی ہے اس میں 1.7 کروڑ ووٹوں کا اضافہ ہوا ہے۔ 379 حلقوں میں فی حلقہ 28 ہزار ووٹوں کا اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ لوک سبھا کے اعتبار سے یہ ووٹ کافی کم ہیں مگر کم مارجن کی صورت میں ایک ایسے امیدوار کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں جسے ووٹ کم ملے ہوں ۔(چار ٹ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کن ریاستوں میں ووٹنگ کی شرح میں فرق واقع ہوا ہے)

ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا انتخابات صرف کمیشن اور سیاسی پارٹیوں کا معاملہ ہے؟ اور کیا یہی دو اسٹیک ہولڈرز ہیں؟ ظاہر ہے کہ جمہوریت میں ایک بڑا اسٹیک ہولڈر عوام ہوتے ہیں۔عوام کی شمولیت کے بغیر انتخابی عمل کے مکمل ہونے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگلا قدم کیا ہونا چاہیے؟ عوامی مینڈیٹ کی حفاظت کے لیے عوام کو اور سیول سوسائٹی اداروں کو منظم ہونے کی ضرورت ہے۔ اے ڈی آر اور کامن کاز کی درخواستوں پر فوری سماعت کی ضرورت ہے، کیوں کہ اگلے پانچ برسوں تک انتظار نہیں کیا جاسکتا۔ موجودہ انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں اور ورکروں کو سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور سابق مرکزی وزیر کپل سبل کے اس مشورے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کپل سبل سیاسی جماعتوں اور ان کے کارکنان کو مشورہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمام جماعتوں اور ایجنٹوں کے لیے فارم 17-سی اور ای وی ایم مشین کے ووٹوں کے درمیان جب تک مطابقت نہیں ہوجاتی اس وقت تک نتیجے کا بٹن مت دبائیں ۔اگر نتیجے میں فرق ہے تو اس سے مطلع کریں ۔

اس سارے نظام کی خرابی کی اصل جڑ عہدہ طلبی اور ہر حال میں اقتدار کا حصول ہے۔ ایک صالح نظام میں اقتدار اور حکومت عوام کی خدمت کا ذریعہ ہوتا ہے چنانچہ اسلامی نظام جمہوریت میں وہ امیدوار نااہل قرار پاتا ہے جو اپنی امیدواری خود پیش کرے۔ اس کے بجائے عام شہری کچھ نام پیش کرتے ہیں جن پر بحث و مباحثہ ہوتا ہے۔ بھارت میں جماعت اسلامی ہند اس کا عملی نمونہ پیش کرتی ہے جہاں امیر کا انتخاب اراکین کرتے ہیں مگر کوئی بھی شخص اپنی دعویداری پیش نہیں کرتا۔ تاہم، بھارت جیسے کثیر آبادی والے میں اسے اپنانا ممکن تو نہیں لگتا مگر بحیثیت امت دعوت ہماری ذمہ داری ہے کہ انتخابی اصلاحات اور نظام میں شفافیت لانے کے لیے اسلامی دعوت اور اس کے پیغام کو برادران وطن تک پہنچائیں ۔ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ میدان سیاست میں صالح کردار کے حامل افراد زیادہ سے زیادہ تعداد میں پہنچیں، اس کے لیے افرادسازی اور تربیت کے نظام کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم ایک طرف مسلم قیادت کے بحران کا رونا روتے ہیں اور دوسری طرف سیاسی جماعتوں میں شامل مسلم لیڈروں کے بے حسی پر آنسو بہاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے مسلم لیڈرشپ کی تیاری کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔ آخری اور اہم بات یہ ہے کہ ہمیں انتخابی نظام میں شفافیت کے لیے کام کرنے والی اے ڈی آر اور کامن کاز جیسی تنظیموں کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔کیوں کہ جمہوریت کا زوال کا خمیازہ ہمیشہ اقلیتی طبقے کو ہی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ اقتدار کے حصول کے لیے وزیر اعظم اور ان کی پارٹی والے مسلسل مسلمانوں اور اقلیتوں کو نہ صرف نشانہ بنارہے ہیں بلکہ ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف مشتعل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔فاششٹ قوتیں اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ہمیشہ ایک فرضی دشمن کھڑا کرتی ہیں، اس وقت ملک میں مسلمانوں کو ہندوؤں کے دشمن کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اس انتخاب میں بڑے پیمانے پر ووٹر لسٹ سے مسلم رائے ہندگان کے نام غائب ہونے اور مسلم آبادی والے علاقوں میں مسلمانوں کو ووٹ دینے سے روکنے کے واقعات بھی سامنے آرہے ہیں۔ یہ صورت حال انتہائی سنگین ہے۔فاششٹ قوتوں کی بھر پور کوشش ہے کہ مسلمانوں کو حق رائے دہی سے محروم کر دیا جائے۔ الیکشن کمیشن اس معاملے میں بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنے سے قاصر رہا ہے۔ انتخابات کا عمل مکمل ہونے کے بعد مسلم تنظیموں اور جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ اس مسئلے پر کام کریں اور ایک حتمی رپورٹ مرتب کی جائے کہ ووٹر لسٹ سے نام غائب ہونے کی شرح کیا ہے اور کن علاقوں میں مسلمانوں کو ووٹ دینے سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے لیے ہرسطح پر کام کرنے اور آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔

۔۔۔۔

خبر و نظر

پرواز رحمانی

جب اسرائیل قبضہ جما رہا تھا

پچھتر سال قبل جب برطانیہ اور کچھ دوسرے بڑے ملکوں نے ایک طویل المدت سازش کے تحت عالم عرب کے قلب میں یہودی ریاست کی بنیاد ڈالی تو عرب عوام اور پوری دنیا کے مسلمانوں نے اس کی مخالفت کی۔ گویا عالم اسلام نے قبضہ کے پہلے دن ہی اپنا احتجاج نوٹ کروادیا۔ اس کے بعد مسلمانوں کی یہ تحریک جاری رہی اور آج تک جاری ہے۔ ابتدا میں امت مسلمہ اسرائیلی وجود کے خلاف ہے، اسے تسلیم نہیں کرتی۔ جب الفتح تنظیم قائم ہوئی تو اس نے اس تحریک کو بہت پھیلایا۔ یاسر عرفات اس کے لیڈر تھے۔ جب کوئی ان کے سامنے اسرائیل کا نام لیتا تو وہ پوچھتے کون اسرائیل، کیا اس نام کی کوئی مملکت دنیا میں موجود ہے؟ بات یہی تھی کہ کوئی مسلمان اسے تسلیم نہیں کرتا تھا۔ لیکن امریکہ اور برطانیہ وغیرہ نے کچھ عرب حکم رانوں کو کسی طرح اعتماد میں لے کر اس تحریک کا زور کم کرایا۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ امریکہ کے زیر اثر یاسر عرفات نے اسرائیل کے ساتھ امن کا معاہدہ کر لیا اور اسرائیل کے ساتھ ہاتھ ملا لیا۔ یہ ایک تاریخی لمحہ تھا۔ اس معاہدے سے مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ البتہ اسرائیل اور قوم یہود کو مضبوطی ملی۔ عرب حکم رانوں کی ذاتی پالیسیوں نے اسرائیل کو مزید مضبوط کر دیا۔ امریکہ میں اسرائیل کے ساتھ معاہدہ یاسر عرفات کی الفتح کے ساتھ ہوا۔ عام فلسطینی اور مسلمان اس میں شامل نہیں تھے۔ اسی اثناء میں فلسطین کے اندر حماس نام کی تنظیم پیدا ہوئی جو خالصتاً اسلامی تحریک تھی، جبکہ الفتح کو اسلام اور امت مسلمہ سے کوئی سابقہ نہیں تھا۔ حماس کے شعبوں میں شعبہ دعوت سب سے اہم ہے، یہ سرحد پر رہنے والے یہودیوں کو عام خدمات دیتی ہے۔ ان کی مزاج پرسی کرتی ہے۔ ضرورت مندوں کی ضروریات پوری کرتی ہے۔ حسب موقع ان سے اسلام کی حقیقت پر بات بھی کرتی ہے۔ یہ انہیں بتاتی ہے کہ اصل دین اسلام ہی ہے۔ حضرت موسیٰؑ اللہ کے برگزیدہ پیغمبر ہیں۔ حضرت ابراہیمؑ اسلام، یہودیت اور عیسائیت تینوں کے باپ ہیں۔ حماس کے مسلمانوں کی اس تبلیغ کے نتیجے میں بہت سے یہودی ایمان لے آئے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ اسرائیل، حماس کی ان سوشل سرگرمیوں کے اثرات سے پریشان ہوکر حماس کی سرحد بند کر دیتا ہے۔ موجودہ جنگ کے دوران بھی حماس نے متعدد نو مسلموں کو پناہ دی ہے۔

عرب بادشاہ تو صرف بادشاہ تھے

مسلم بادشاہوں کو صرف اپنی بادشاہتوں کی فکر رہی۔ عرب ممالک میں تیل دریافت ہوا تو امریکہ، برطانیہ اور سوویت یونین کی پوری کوشش رہی کہ وہاں یونیورسٹیاں، تعلیمی ادارے اور تکنیکی ادارے قائم نہ ہونے پائیں۔ امیر شاہوں نے اس کا پورا پورا خیال رکھا۔ متحدہ عرب امارات نے برج خلیفہ بنا کر ساری سہولتیں ملک سے باہر والوں کو دے دیں۔ مقامی باشندوں کو صرف اچھا رہنے اور اچھا کھانے کی اجازت رہی۔ دیگر کاموں میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ اب سب سے بڑی بادشاہت اسرائیل کی مدد سے دنیا کا سب سے ماڈرن شہر نیوم قائم کر رہی ہے۔ اس شہر سے بھی صرف بادشاہ اور امیر زادے ہی استفادہ کرسکیں گے۔ جو مقامی افراد اس نقشے کے اندر آرہے ہیں انہیں بھگایا جا رہا ہے اور مار دینے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔ اس مملکت میں دینی ذہن رکھنے ولوں کو توحید خالص کا لالچ دیا جارہا ہے کہ وہ مملکت کے لیے تشہیری کام کرنے والے ایجنٹوں سے تھوڑا بہت مال لے کر اپنے اپنے ممالک میں توحید خالص کی دعوت کا کام کریں۔ اس کے لیے بحث و مباحثہ بھی ہو تاکہ امت میں انتشار برپا رہے۔ یہ لوگ ائمہ کرام اور فقہا سے سخت بیزار ہیں۔ ان کے نام آتے ہی شرک اور کفر کے فتوے جاری کرتے ہیں۔ ان مملکتوں کو فلسطین اور حماس سے بھی کوئی دلچسپی نہیں بلکہ حماس کے تو وہ دشمن ہیں۔ انہیں زیادہ سے زیادہ صرف مسجد اقصیٰ سے کچھ لگاو ہے لیکن عمل اس کے لیے بھی ندارد ہے۔ فلسطینی دارالحکومت کا خواب امت مسلمہ ایک زمانے سے دیکھ رہی ہے لیکن اس میں سیکڑوں رکاوٹیں ڈالی گئی ہیں۔ کئی ممالک بھی یہ کام چاہتے ہیں۔ اب کچھ ملکوں نے فلسطین کے دارالحکومت کو عملاً دیکھنے کا اقدام کیا ہے۔ یہ ممالک ہیں اسپین آئرلینڈ اور ناروے۔ ان ممالک نے اعلان کیا ہے کہ وہ فلسطین کو ایک باقاعدہ ریاست کا بنیادی حق تسلیم کرتے ہیں۔ اس کا باقاعدہ اعلان دو تین دن میں ہو گا۔ ظاہر ہے کہ اس سے اسرائیل کو ناراض ہونا تھا، اس نے وہاں سے اپنے سفیر واپس بلا لیے ہیں۔ اسپین نے یہ بھی کہا ہے کہ تین ملکوں کا یہ فیصلہ نہ اسرائیل کے خلاف ہے نہ حماس کے حق میں بلکہ یہ امن کے حق میں کیا گیا فیصلہ ہے۔ سعودی عرب نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے کا خیر مقدم کیا ہے۔ اچھی با ت ہے۔

عرب آج کیا کر رہے ہیں؟

تین ملکوں کے اس فیصلے سے پہلے ایک سو چالیس ملکوں نے ریاست فلسطین کو تسلیم کرلیا تھا۔ مگر اس میں ریاست کے بنیادی حق کی بات نہیں تھی۔ ان تین ملکوں نے بنیادی حق کو تسلیم کر لیا ہے۔ اس طرح فلسطین کو ایک آزاد ریاست کا بنیادی حق حاصل ہوگیا ہے۔ امریکہ نے یہ فیصلہ تسلیم نہیں کیا جبکہ اسرائیل پہلے ہی اسے مسترد کر چکا ہے۔ اس سے حماس او اسرائیل کے مابین جاری جنگ کے تیز ہونے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔ فلسطین کو ریاست کا بنیادی حق دیے جانے پر اسرائیل نے کہا ’’یہ ایسا ہی ہے جیسے شیطان کو انعام سے نوازنا‘‘۔ دیگر ملکوں کے بیانات بھی آرہے ہیں جو زیادہ تر فلسطین کے حق میں ہیں اور کچھ مخالفت میں۔ حق میں بیان دین والے زیادہ تر مسلم ممالک ہیں۔ کچھ غیر مسلم ملک بھی ہیں۔ اسپین، ناروے اور آئرلینڈ اپنے موقف کے دفاع میں بول رہے ہیں۔ اسرائیل کی بد حواسی کی وجہ یہ ہے کہ مزید کچھ ممالک ان تینوں ملکوں کی پیروی کر سکتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل پر عالمی دباو بھی بڑھ سکتا ہے۔ جن ایک سو چالیس ملکوں نے فلسطینی ریاست کو اصولی طور پر تسلیم کیا ہے ان میں سے بعض آگے آسکتے ہیں۔ بعید نہیں کہ وہ وقت بھی آجائے یہ تمام ایک سو چالیس ممالک فلسطینی ریاست کا بنیادی حق تسلیم کرلیں گے۔ عرب دنیا میں اسرائیل کے قیام کی نوبت ہی نہ آتی اگر وہ اس وقت غربت میں نہ ہوتے۔ آج جو مال ہاتھ آیا ہے اگر وہ اس وقت آیا ہوتا تو بڑے ملکوں کی یہ سازش کبھی کامیاب نہ ہوتی۔ مگر نہیں، یہ توقع رکھنا بھی سادہ لوحی ہے۔ گزشتہ صدی میں تیل کی دولت ہاتھ آجانے کے بعد عربوں نے کیا کر لیا۔ احسان کے بدلے ساری دولت امریکہ کو دے دی اور آج بھی دیے جا رہے ہیں۔ جب دولت نئی نئی ہاتھ آئی تھی تو اسرائیل کے خاتمہ پر نہ سہی اپنی یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے بنانا کون سی بڑی بات تھی۔ مگر نہیں یہ سوچ ہی غلط ہے۔ امریکہ نے انہیں اس قابل ہی نہیں چھوڑا۔ عرب پڑھنے بھی جاتے ہیں تو صرف امریکہ، پھر وہاں سے امریکی طور طریقے سیکھ کر آتے ہیں اور دنیا میں فساد پھیلاتے ہیں۔ سب سے بڑی مملکت کا ولی عہد بھی وہیں سے سیکھ کر آیا ہے۔ اللہ امت مسلمہ پر رحمت فرمائے۔

آخر کار 5 مرحلوں کی رائے دہی کا ڈیٹا جاری لیکن خدشات ہنوز برقرار

تکنیک کے دور میں ووٹر ٹرن آؤٹ ڈیٹا میں تاخیر کا کوئی جواز نہیںہوسکتا

زعیم الدین احمد، حیدرآباد

یہ بڑی شرم کی بات ہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اپوزیشن پارٹیوں اور دیگر سماجی تنظیموں کی جانب سے حقیقی پولنگ پرسنٹیج اور اعداد و شمار کو پولنگ کے فوری بعد پیش کرنے کے مطالبات کے باوجود پولنگ ہونے کے کئی دن بعد بھی ووٹنگ کا تفصیلی ڈیٹا فراہم کرنے سے گریز کیا یہاں تک کہ ایک غیر سرکاری تنظیم ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) کو سپریم کورٹ کے درپر دستک دینی پڑی ۔ اے ڈی آر نے عدالت عظمیٰ سےدرخواست کی تھی کہ وہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کو تمام پولنگ اسٹیشنوں میں ڈالے گئے ووٹوں کا ریکارڈ جاری کرنے کی ہدایت دے اور یہ حکم بھی صادر کرے کہ جیسے ہی پولنگ ختم ہو اس کے اڑتالیس گھنٹوں میں پولنگ فیصد اور ساری تفصیلات ECI کی آفیشیل ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردے۔علاوہ ازیں اے ڈی آر نے پولنگ کے اختتام کے فوراً بعد ای سی آئی کی طرف سے جاری کردہ ابتدائی ٹرن آؤٹ کے اعداد و شمار اور بعد میں شائع ہونے والے حتمی ووٹر فیصد میں نمایاں فرق کی طرف بھی انگشت نمائی کی ہے۔

 اس طرح کے تضادات نے عوامی ڈومین میں دستیاب پولنگ ڈیٹا کی صداقت اور گنتی کے مرحلے میں ہیرا پھیری کے امکان کے بارے میں اپوزیشن کی جانب سے الجھن آمیز سوالات کو جنم دیا ہے۔ 20 مئی کو، ایڈوکیٹ محمود پراچہ نےبھی اس معاملے میں مداخلت کی درخواست دائر کی تھی جنہوں نے آزاد امیدوار کے طور پر رام پور لوک سبھا حلقہ سے الیکشن لڑاہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ متعلقہ ریٹرننگ آفیسر (RO) نے اپنے حلقے میں پولنگ ووٹوں کے فارم 17C ریکارڈ کی کاپیاں پیش نہیں کیں جو  کنڈکٹ آف الیکشن رولز، 1961 (1961 رولز) کے تحت لازمی ہے۔

 الیکشن کمیشن سے جب سوال کیا گیا کہ ووٹنگ کی تفصیلات فراہم کرنے میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے تو اس نے کوئی ٹھوس وجوہات بھی نہیں بتائیں، جب کہ سابق میں  انتخابی عمل میں شفافیت کے لیے، ووٹوں کی قطعی تعداد اور پول ہونے والے ووٹوں کا فیصد اور اس کے ساتھ سارا ڈیٹا پیش کردیا جاتا تھا۔

الیکشن کمیشن کی ہمیشہ سے یہ روایت رہی ہے کہ پولنگ ہونے ایک دن بعد سارا ڈیٹا پبلک ڈومین میں رکھ دیا جاتا ہے، لیکن اس بار یہ غیر معمولی بات دیکھنے میں آئی ہے کہ پولنگ کے 6 مرحلے مکمل ہونے کے بعد 5 مرحلوں تک کا ڈیٹا جاری کیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے یہ اقدام کافی تاخیر سے اس وقت کیا جب مختلف گوشوں سے الیکشن کمیشن کو شدید تنقیدوں کا نشانہ بنایا گیا۔ حتی کہ غیر سرکاری تنظیم اے ڈی آر اور بعض دیگر لوگوں نے عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

 ایک بات یہ بھی دیکھنے میں آئی کہ ووٹنگ کےبعد ریکارڈشدہ فیصد  اورپانچ چھ دن بعد جاری کردہ قطعی ووٹنگ میں چھ فیصد کا اضافہ بتایا گیا ہے، یہ ایک غیر معمولی بات ہے، سابق میں اس طرح کی مثال نہیں ملتی۔

سپریم کورٹ میں جو پٹیشن داخل کیا گیا ہے اس میں ووٹنگ کے حقیقی اعداد و شمار، جیسا کہ فارم 17-C  پارٹ-1 میں درج ہوتا ہے، اس کے ساتھ ہر اسمبلی حلقے میں ہونے والے ووٹنگ ٹرن آؤٹ ہوا ہے اس کے بھی حقیقی اور قطعی اعداد و شمار ایک ٹیبلیشن میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ مطالبہ اس لیے کیا گیا کہ الیکشن کمیشن نے پہلے دو راؤنڈز میں جو ووٹنگ فیصد پیش کیا تھا وہ فارم 17-سی کے اعداد و شمار سے مماثلت نہیں رکھتا، جو نمبرز فارم-17 سی میں درج ہیں وہ کم ہیں اور جو بعد میں پولنگ فیصد دیا گیا ہے وہ زیادہ ہے۔ اب اگر الیکشن کمیشن ہی یہ رویہ اختیار کرے تو پھر کس پر بھروسا کیا جائے؟ اور اس طرح کی قانونی دھاندلی ہوگی تو پھر ووٹ ڈالنے کا فائدہ ہی کیا ہے؟

اے ڈی آر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ووٹنگ کے جو حتمی اعداد و شمار دیے ہیں وہ، اور جو ابتدائی اعداد و شمار تھے ان کے درمیان چھ فیصد کا اضافہ ہے جو کہ غیر معمولی ہے۔ پھر دوسری طرف انتخابات کے تمام مراحل میں ووٹروں کی جو اصل تعداد ہے اس میں جو اچانک اضافہ ہوا ہے اور جو حتمی اعداد و شمار جاری کرنے میں تاخیر ہوئی ہے اس پر سوالات اٹھنا لازمی ہے۔

درخواست میں اس بات کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنی ویب سائٹ پر فارم 17-C پارٹ-II کی اسکیان شدہ کاپیوں کو بھی اپ لوڈ کرے، جس میں کس امیدوار کو کتنے ووٹ ملے اس کا سارا حساب کتاب ہوتا ہے۔ جب عدالت نے ان معاملات پر الیکشن کمیشن سے پوچھا تو اس نے کہا کہ فارم 17-C کی تفصیلات درج کرنے اور اس کو اپ لوڈ کرنے میں وقت لگتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی امیدوار کو اعداد و شمار میں تضاد نظر آتا ہے تو وہ الیکشن کمیشن میں پٹیشن دائر کر سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے اس تیز رفتار دور میں اس طرح کا عذر، عذر لنگ ہی مانا جائے گا۔ جب الیکشن کمیشن کا سارا عمل ہی شک کے دائرے میں ہو تو پٹیشن دائر کرنے کا کیا فائدہ؟ الیکشن کمیشن کا جواب انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور بے حسی پر مبنی ہے۔ ظاہر ہے کہ انتخابی پٹیشن کو نمٹنے میں کئی سال لگ جاتے ہیں، ویسے کسی بھی کیس کو نمٹنے میں سالہا سال لگ جاتے ہیں۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے عدالت سے یہ شکایت کی کہ اے ڈی آر کی طرف سے جو درخواست دائر کی گئی ہے، وہ ووٹروں کو ووٹ ڈالنے میں مانع ہوگی اور ووٹروں کے دل میں شک پیدا کرے گی۔ الیکشن کمیشن کا اس طرح  کے بہانے بنانا اس کے شایان شان نہیں ہے، اسے تو آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کا پورا اختیار ہے لیکن ووٹروں کے دل میں شک الیکشن کمیشن کے کاموں سے پیدا ہو رہا ہے۔

سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی کے مطابق ووٹر ٹرن آؤٹ، ڈیٹا فراہم کرنے میں تاخیر کی کوئی وجہ نہیں ہے، کیونکہ یہ حقیقی وقت میں دستیاب رہتا ہے۔ ایس وائی قریشی جو کہ خود الیکشن کمشنر رہے ہیں اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ انتخابی نظام میں ڈیٹا کیسے آتا ہے، یہ اس وقت کمیشن کے سربراہ تھے جب انتخابی عمل کو تیز کرنے اور ڈیٹا کو پبلک کرنے کے لیے ای وی ایم متعارف کرایا گیا تھا۔

ایس وائی قریشی کے مطابق ’’ووٹر ڈیٹا حاصل کرنے میں تاخیر کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ یہ ڈیٹا حقیقی وقت میں سسٹم میں موجود ہوتا ہے، جیسے ہی پولنگ ختم ہوتی ہے اس کے محض پانچ منٹ کے اندر، تمام معلومات دستیاب رہتی ہیں‘‘۔

 اب اس صورتحال میں الیکشن کمیشن جواب دہ ہے کہ اعداد و شمار کو حتمی شکل میں دینے کے لیے اتنا وقت کیوں لیا جا رہا ہے؟ جناب قریشی نے یہ بھی کہا کہ، ’’الیکشن کمیشن کو اس بارے میں مکمل معلومات دینی چاہیے کہ یہ خلا یا کوآرڈینیشن کی کمی کیوں پیدا ہوئی ہے۔ کمیشن کو بتانا چاہیے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ انتخابی عمل میں شفافیت کے لیے لوگوں کے ذہنوں میں اٹھنے والے تمام سوالات کا جواب دینا ہوگا۔‘‘

الیکشن کمیشن کے پاس پورا ڈیٹا موجود ہے اور اس ڈیٹا کو اپنے پاس روکے رکھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کی ساکھ کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے کاموں میں شفافیت لائے۔ الیکشن کمیشن کا کام ہی یہ ہے کہ وہ عوام کو بتائے کہ اس نے انتخابات میں شفافیت لانے کے لیے کیا اقدامات کیے؟ اسی سے ووٹروں میں اعتماد پیدا ہوگا، ورنہ اسی طرح اسے تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور عوام کا اعتماد بھی اس پر سے اٹھ جائے گا۔ عدالت نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو اپنا جواب داخل کرنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا تھا اور 24 مئی کو اس معاملے  کی سماعت کی گئی۔ لیکن الیکشن کمیشن نے عدالت عظمیٰ میں جو حلف نامہ داخل کیا ہے وہ نہ صرف مایوس کن ہے بلکہ شکوک و شبہات کو مزید گہرا کرنے والا ہے۔  اس حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ فارم 17-سی کی بنیاد پر رائے دہندے جب ووٹنگ ڈیٹا دیکھیں گے تو انہیں غلط فہمی پیدا ہوگی، کیونکہ اس میں ڈاک بیلٹ پیپر کی گنتی بھی شامل ہوگی۔ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں یہ دلیل دی کہ پولنگ مراکز میں ووٹروں کے لیے ووٹنگ کے آخری تصدیق شدہ ڈیٹا کو شائع کرنے کا کوئی قانونی التزام نہیں ہے۔ واضح رہے کہ فارم 17-سی ایک پولنگ مرکز پر ڈالے گئے ووٹوں کا ریکارڈ ہوتا ہے جو پریسائڈنگ آفیسر کے دستخط کرنے کے بعد پولنگ کے آخر میں پولنگ ایجنٹ کو دیا جاتا ہے اور یہی اعداد و شمار براہ راست الیکشن کمیشن کو بھیجے جاتے ہیں۔اس میں ڈاک بیلٹس کو شامل کرنا اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے ۔ شفافیت کے لیے الیکشن کمیشن فارم 17-سی کے ڈیٹا اور ڈاک ووٹوں کو الگ الگ بھی پیش کرسکتا ہے تاکہ کوئی اشتباہ باقی نہ رہے اور وہ غلط فہمی پیدا ہی نہ ہو جس کی الیکشن کمیشن بات کر رہا ہے۔

الیکشن کمیشن کی یہ بات کتنی عجیب وغریب ہے جو اس نے سپریم کورٹ میں کہی ہے کہ پولنگ اسٹیشنوں میں ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد بتانے والے فارم سی-17 کی تفصیلات کو عام نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس سے ملک میں افراتفری پھیل سکتی ہے اور اس سے چھیڑ چھاڑ کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اپنے حلف نامے میں الیکشن کمیشن نے مزید کہا کہ پولنگ اسٹیشن کے لحاظ سے ووٹنگ فیصد کے اعداد و شمار کا اندھا دھند انکشاف اور اسے ویب سائٹ پر پوسٹ کرنے سے اس  انتخابی مشینری میں افراتفری پھیل جائے گی جو لوک سبھا انتخابات کروانے میں مصروف ہے۔یہاں یہ بات ملحوظ رہنی چاہیے کہ فارم 17-سی کا مقصد ہی یہ ہے کہ عوام کو رائے دہی کے اعداد و شمار سے آگہی حاصل ہو اور انہیں اس بات کا اطمینان رہے کہ انتخابات صاف وشفاف طریقے سے کروائے جارہے ہیں۔

شکوک وشبہات کے اس ماحول میں عدالت عظمیٰ نے 24؍ مئی کی سنوائی میں  الیکشن کمیشن کے خلاف درخواستوں کی سماعت یہ کہتے ہوئے ملتوی کردی کہ پولنگ کے 48 گھنٹوں کے اندر ووٹر ٹرن آؤٹ کے بوتھ وار اعدادوشمار اور فارم 17C کی کاپیاں ای سی آئی کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کاحکم  انتخابات کے درمیان نہیں دیا جاسکتا۔ظاہر ہے یہ بات الیکشن کمیشن کے لیے حوصلہ بخش ثابت ہوئی ہے۔ تاہم اس نے عدالت عظمیٰ کے اس موقف کے ایک دن بعد 5  مرحلوں کی رائے دہی کا ڈیٹا جاری کردیا ہےجو اب پبلک ڈومین پر ہے۔  الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس نے ہر پارلیمانی حلقے میں ووٹروں کی مطلق تعداد کو شامل کرنے کے لیے ٹرن آؤٹ ڈیٹا کے فارمیٹ کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اب جبکہ الیکشن کمیشن نے  5  مرحلوں کی رائے دہی کا ڈیٹا جاری کردیا ہے ، مگر ووٹنگ کےبعد ریکارڈشدہ فیصد اورپانچ چھ دن بعد جاری کردہ قطعی ووٹنگ  کے فیصد میں 6فیصد تک کا تفاوت بدستور الجھن آمیز اور خدشات پیدا کرنے والا ہے۔

مسلم دنیا نے کھوئی اپنی ایک با اثر آواز

ابراہیم رئیسی کے بعد ایران کے محمد مخبر عبوری صدر

آئین کے مطابق پچاس دنوں کے اندر نئے صدارتی انتخابات 

اسد مرزا

 سینئر سیاسی تجزیہ نگار

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی جو پچھلے دنوں آذربائیجان کے پہاڑی سرحدی علاقے میں ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ہلاک ہو گئے، مکمل طور پر حکومت کے وفادار تھے، ان کا انتقال ایران کے لیے شدید دھچکا ثابت ہوسکتا ہے۔ 

ہیلی کاپٹر کے حادثے سے رونما  ہونے والی تبدیلیاں ایرانی ریاست کے لیے اہم اثرات مرتب کرسکتی ہیں، جو کہ فی الوقت ملکی چیلنجوں اور علاقائی اور بین الاقوامی محاذ آرائی سے دوچار ہے۔

ابراہیم رئیسی کون تھے؟

1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے، ابراہیم رئیسی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ایک پر عزم حمایتی اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے ایک ممتاز حامی کے طور پر کام کیا تھا۔2021 میں صدر بننے سے پہلے، ابراہیم رئیسی سپریم لیڈر کے دائرہ کار میں، عدلیہ کی وزارت میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ انہوں 2006 سے ماہرین کی اسمبلی میں خدمات انجام دیں، ایک ایسا ادارہ جو سپریم لیڈر کی تقرری اور نگرانی کرتا ہے۔اپنی کم گوئی اور فصاحت کی کمی کے باوجود، خیال کیا جاتا تھا کہ 63 سالہ رئیسی کو 85 سالہ خامنہ ای کی جگہ سپریم لیڈر کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔

ایک متنازعہ سیاسی ریکارڈ

مقامی طور پر، ابراہیم رئیسی کی صدارت حکومت کے لیے ایک قانونی بحران اور سماجی چیلنجوں کا سبب تھی۔ انہوں نے متنازعہ طور پر 2021 کے صدارتی انتخابات میں امیدواروں کی جانچ کرنے والی گارڈین کونسل کی جانب سے امیدواروں کی ایک بڑی تعداد کو نامنظور کیے جانے کے بعد اب تک کے سب سے کم ووٹ حاصل کرکے فتح حاصل کی تھی۔اپنے قدامت پسند رائے دہندگان کو خوش کرنے کے لیے، انہوں نے اخلاقی پولیس کو دوبارہ متحرک کیا اور معاشرے پر مذہبی پابندیاں دوبارہ عائد کر دیں۔ ان کے دور میں ایران کی معیشت کو حکومتی کنٹرول کے تحت لانے کے ساتھ ساتھ امریکی پابندیوں کی وجہ سے نقصان بھی اٹھانا پڑا اور ابھی بھی وہ اس سے دوچار ہے، جس کی وجہ سے تہران کی جانب سے دنیا بھر میں مسلمانوں کے حق میں اٹھائی جانے والی آواز بیرون ملک اشتعال انگیزیوں کے جواب میں شدت اختیار کر گئی ہے۔

ابراہیم رئیسی کی صدارت میں گھریلو انتشار کے ساتھ ساتھ ایران کے علاقائی اور بین الاقوامی کردار میں بھی بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔سپریم لیڈر کے طور پر، خامنہ ای خارجہ پالیسی پر حتمی رائے رکھتے ہیں۔ لیکن رئیسی نے ایک ایسی ریاست کی صدارت کی جس نے اپنے مخالفین، خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف تصادم کا راستہ جاری رکھا۔جس کی وجہ سے ایران مغربی دنیا سے آہستہ آہستہ دور ہوتا چلا گیا۔

 رئیسی کی قیادت میں ایران جوہری معاہدے کو بحال کرنے سے گریزاں رہا جس کی وجہ سے اسے بڑھتی ہوئی امریکی پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔اس کے باوجود ایران نے یورینیم کی افزودگی کے پروگرام میں اضافہ کیا ہے، بین الاقوامی معائنہ کاروں کو ایران آنے سے روکا ہے اور جوہری صلاحیت والی ریاست بن گیا۔

رئیسی نے اپنے پیشرو حسن روحانی کی “مشرق کی طرف دیکھو” کی پالیسی کو بھی جاری رکھا۔ اس مقصد کے لیے انہو نے چین کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعلقات کو آگے بڑھایا۔بدلے میں بیجنگ نے ایرانی تیل درآمد کرنا شروع کیا اور مارچ 2023 میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان ایک سفارتی معاہدے کی ثالثی کرکے ایران کی مالی اور سفارتی مدد کی۔ 

 رئیسی کی صدارت میں ایران، امریکہ اور مغرب مخالف تنازعات کے اتحادی کے طور پر کام کرتا رہا۔ یوکرین میں استعمال کے لیے روس کو جنگی ڈرون فراہم کرتا رہا اور مشرق وسطیٰ میں مختلف علاقائی گروپوں کو اسلحہ فراہم کرتا رہا۔

7 اکتوبر 2023 کو غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے، خامنہ ای اور رئیسی کی قیادت میں ایران نے اپنے علاقائی اتحادیوں کو اسرائیل اور امریکہ کا مقابلہ کرنے کے لیے فعال کرنے کے درمیان ایک نازک توازن برقرار رکھا اور دونوں ممالک کے ساتھ براہ راست تصادم سے گریز کیا، جو روایتی طور پر اس کے دشمن رہے ہیں۔ اگرچہ رئیسی خارجہ پالیسی کے لیے براہ راست ذمہ دار نہیں رہے، لیکن حکومت کی جانب سے خود کو قائم بین الاقوامی نظام سے مزید دور کرنے اور مغرب کے مخالف ممالک کے ساتھ اتحاد قائم کرنے کی کوششوں میں انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا ۔

صدرات میں تبدیلی کے معنی

رئیسی سپریم لیڈر خامنہ ای کے ایک طویل عرصے سے وفادار، حکومت کے اندرونی معاملات پر گرفت رکھنے اور حل کرنے والے اور ان کے ممکنہ جا نشین تھے۔ان کے جانے کے بعد نتیجہ مختلف علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف اتحادیوں کے ساتھ مضبوط تعلقات کو استوار کرنا اور روایتی مخالفین کے خلاف حسابی تصادم کو آگے بڑھانے کی شکل میں سامنے آسکتا ہے۔

رئیسی اور ہندوستان-ایران کے تعلقات

ابراہیم رئیسی اور ان کے وزیر خارجہ امیر عبداللہیان ایران کی چابہار بندرگاہ پر ہندوستان کی کچھ بڑی سرمایہ کاری کے اختتام کی کلید تھے، جو پاکستان میں چین کی مالی امداد سے چلنے والی گوادر بندرگاہ سے صرف 200 کلومیٹر دور واقع ہے جو وسطی ایشیا کے راستے روس کے ساتھ ہندوستان کے رابطے کے عزائم حاصل کرنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے ۔وزیر خارجہ ہند ڈاکٹر ایس جے شنکر نے اس سال جنوری میں چابہار پورٹ ڈیل اور شمال-جنوبی کوریڈور پر پیشرفت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایران کا دورہ کیا تھا۔

ایران، انٹرنیشنل نارتھ-ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور (INSTC) کے مرکز میں ہے۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی، جہاز رانی کے وزیر سربانند سونووال نے دونوں ممالک کے لیے ایک اہم جیو اکنامک پیش رفت میں اگلے دس سالوں کے لیے چابہار بندرگاہ کو چلانے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔نئی دہلی برکس (برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقہ) میں شامل ہونے کے لیے تہران کا کلیدی حامی رہا ہے، یہ پیشرفت ستمبر 2023 میں جنوبی افریقہ برکس سربراہی اجلاس کے دوران ہوئی۔اس سے پہلے نئی دلی کی گلیاروں میں، تہران کی نئی دلی کی قیادت میں وائس آف دی گلوبل ساؤتھ سمٹ کے لیے حمایت کا بڑے پیمانے پر اعتراف کیا گیا تھا۔ایرانی مفادات کے خلاف واشنگٹن کی مسلسل کوششوں کے باوجود، یہ ہندوستان ہی تھا جس نے 2018 میں اپنے ثابت قدم سفارتی سرمائے کے ذریعے چابہار بندرگاہ سے متعلق سرمایہ کاری کے لیے امریکہ سے چھوٹ حاصل کی۔ تہران نئی دلی کی جیو اکنامک اہمیت کو تسلیم کرتا ہے اور یہی صحیح پہچان ہے جس نے رئیسی کے اقتدار کے دوران دونوں ممالک کو قریب کیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے تعزیتی پیغام میں رئیسی کے “ہندوستان-ایران دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں شراکت” کی جانب اشارہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک نے حالیہ برسوں میں رئیسی کی قیادت میں کیا پیش رفت حاصل کی ہے۔

تاہم، ان کی وفات کے بعد بھی ان کے ناقدین، خاص طور سے مغربی ناقدین، انہیں ایک سخت گیر شخص کے طور پر پیش کرتے ہیں، جس نے عوامی اختلاف رائے کو بالجبر رد کیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ حادثہ واقعی ایک میکانکی ناکامی تھی یا تخریب کاری یا کسی بڑی سازش کا حصہ؟  مزید برآں، ابراہیم رئیسی اور امیر عبداللہیان کو سیکیورٹی ایجنسیوں نے ایک ہی ساتھ چالیس سالہ پرانے ہیلی کاپٹر میں سفر کرنے کی اجازت کیسے دے دی؟ کیا یہ واقعی ایک سازش تھی یا اس کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا؟ یہ صرف وقت ہی بتاسکے گا۔ ان کی ہلاکت کے بعد ایران میں یہ چہ میگوئیاں شروع ہوگئی ہیں کہ شاید ان کی جگہ آیت اللہ خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا صدر اور خامنہ ای کا جانشین مقرر کیا جاسکتا ہے جو کہ اس پورے واقعے کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔تاہم ایرانی حکومت نے اس حادثے کو سازش قرار دینے میں احتیاط سے کام لیا ہے اور اپنے سب سے بڑے دشمن اسرائیل کی شمولیت کو بھی خارج از امکان قرار دیا ہے، جو کہ سیاسی سطح پر ایک بڑا اور دور رس اثر رکھنے والا بیان قرار دیا جا سکتا ہے۔ 

٭٭

حسین امیر عبداللہیان کون تھے؟

حسین امیر عبداللہیان ایران کے وزیر خارجہ تھے، جو ملک کے نیم فوجی پاسداران انقلاب کے قریبی و سخت گیر حامی تھے اور مغرب کا سامنا کرتے ہوئے ملک کے جوہری پروگرام پر امریکہ کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کی نگرانی بھی کررہے تھے۔

امیر عبداللہیان نے امریکہ کے ساتھ دو طرفہ جوہری معاہدے کے خاتمے کے بعد تہران کی حکومت کے سخت گیر رویے کی حمایت کی تھی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر امریکہ کو معاہدے سے الگ کر دیا تھا۔ انہوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے حامی صدر ابراہیم رئیسی کے ماتحت خدمات انجام دیں اور ان کی پالیسیوں پر عمل کیا۔

ساتھ ہی امیر عبداللہیان نے 2023 میں علاقائی حریف سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات تک پہنچنے کی کوششوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ یہ اقدام اسرائیل اور حماس کی جنگ کے بعد شروع ہونے والی کشیدگی کا شکار ہوگیا۔

امیر عبداللہیان نے 2011 سے 2013 تک علی اکبر صالحی کے ماتحت وزارت خارجہ میں خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد وہ وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے ماتحت رہے۔ جنہوں نے اعتدال پسند صدر حسن روحانی کی انتظامیہ کے تحت طے پانے والے جوہری معاہدے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

لیکن ظریف اور امیر عبداللہیان کے درمیان ایران کی خارجہ پالیسی میں اندرونی اختلافات کی وجہ سے آپسی اختلاف ہوگیا تھا۔ ظریف نے انہیں عمان میں سفیر کی پیشکش کی، جو کہ سلطنت کے طویل عرصے سے ایران اور مغرب کے درمیان بات چیت کرنے والے کے طور پر خدمات انجام دینے کی وجہ سے ایک اہم عہدہ ہے، لیکن امیر عبداللہیان نے انکار کر دیا۔ چنانچہ وہ 2021 میں اپنے انتخاب کے ساتھ رئیسی کی قیادت میں وزیر خارجہ بن گئے۔ انہوں نے ایرانی حکومت کے موقف کی حمایت کی اور 2022 میں ہونے والے بڑے پیمانے پر ملک گیر مظاہروں کی مذمت

کی۔

اسرائیل-حماس جنگ کے دوران، انہوں نے غیر ملکی حکام اور حماس کے رہنماؤں سے ملاقاتیں جاری رکھیں۔ انہوں نے اسرائیل کے خلاف انتقامی کارروائی کی دھمکی بھی دی اور اپریل میں اسرائیل پر حملے کی تعریف بھی کی۔ انہوں نے ایران کے ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پڑوسی پاکستان کے ساتھ فضائی حملوں کے مختصر تبادلے پر ایران کے ردعمل کی بھی نگرانی کی اور افغانستان میں طالبان کے ساتھ سفارت کاری پر کام بھی کیا، جن کے ساتھ ماضی میں ایران کے تعلقات کشیدہ رہے تھے۔

٭٭

ایران کے عبوری صدر محمد مخبر کون ہیں؟

محمد مخبر ایران کے موجودہ عبوری صدر ہیں۔ سابق نائب صدر نے 20 مئی  کی صبح عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالب کے ساتھ ایک غیر معمولی میٹنگ کی۔ آئین کے مطابق، ان تینوں کو پچاس دنوں کے اندر نئے صدارتی انتخاب کے لیے انتظامات عمل میں لانے ہوں گے۔ اس وقت تک مخبر عبوری صدر کے عہدے پر فائز رہیں گے۔

رئیسی نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد اگست 2021 میں مخبر کو پہلا نائب صدر مقرر کیا تھا۔ وہ 1989 میں آئین پر نظر ثانی کے بعد سے اس کردار میں خدمات انجام دینے والے ساتویں شخص ہیں اور اب تک کے سب سے زیادہ بااثر نائب صدر ہیں۔ 

پہلے نائب صدر کے طور پر، مخبر نے مختلف قسم کے سرکاری ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کرنے کے لیے ملک بھر کا سفر کیا اور رئیسی کے ساتھ یا اکیلے کئی غیر ملکی دوروں پر وفود کی قیادت کی۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے اسلحے کی منتقلی پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اعلیٰ فوجی اور سیکیورٹی حکام کے ساتھ حال ہی میں روس کا دورہ بھی کیا تھا۔

محمد مخبر ان افراد اور اداروں کی فہرست میں شامل تھے جن پر 2010 میں یورپی یونین کی جانب سے ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی وجہ سے پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ دو سال بعد، EU نے انہیں اس فہرست سے باہر کر دیا تھا۔ وہ بڑے پیمانے پر ایگزیکٹیو امور کے انتظام کے طویل تجربے کے ساتھ ایک عملی آدمی کے طور پر بھی دیکھے جاتے ہیں۔

نائب صدر کے عہدے پر اپنی تقرری سے قبل، مخبر نے 14 سال تک ایران کے سیٹاد، یا امام خمینی کے حکم پر عمل درآمد کی تنظیم کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دی ہیں۔ سیٹاد ایک انتہائی طاقتور اقتصادی جماعت ہے جسے ایران کے پہلے سپریم لیڈر آیت اللہ روح اللہ خمینی کے تحت قائم کیا گیا تھا، جو خیراتی امور پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اب یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی مالیت دسیوں ارب ڈالر ہے اور یہ ایرانی سپریم لیڈر کے براہ راست کنٹرول میں ہے۔ مخبر کی قیادت میں سیٹاد نے کووڈ بحران کے دور میں کوویران بریکت دوا تیار کی تھی، جو کہ ایران کی تیار کردہ اہم کورونا وائرس ویکسین مانی جاتی ہے ، اور جس سے لاکھوں افراد کو کورونا کے خلاف جنگ لڑنے میں مدد حاصل ہوئی تھی۔

چاہ بہار سمجھوتہ بھارت کے لیے نہایت ہی اہم

بھارت اور ایران کے معاشی تعلقات  ترقیوں کی راہ پر گامزن

چین کی گوادر پورٹ سے رسائی کئی مسائل کو جنم دے سکتی ہے

پروفیسر ظفیر احمد، کولکاتا

حال ہی میں مرکزی حکومت نے چاہ بہار بندرگاہ سمجھوتہ کو بہت اہم نقوش راہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ معاہدہ صنعت و تجارت کو مہمیز دینے کے لیے زمینی سرحدوں سے گھرے ہوئے افغانستان اور مغربی خطے کو جوڑنے کا کام کرے گا۔ یہ چاہ بہار سمجھوتہ وسطی ایشیا اور یوریشیا کے بڑے حصوں تک بھارت کے جڑاو اور اثرات کو بڑھانے میں بے حد اہم واسطہ ہے۔ دس سالوں کے لیے اس بندرگاہ کے انتظامی امور کی ذمہ داری ہمارے ملک کو ملنا محض ایران کے ساتھ بہتر تعلقات کا پیش خیمہ ہی نہیں ہے بلکہ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ یوکرین، روس اور فلسطین و اسرائیل کے جنگی حالات میں بھارت کی اہمیت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ حالانکہ اس ڈیل میں بھارت طویل عرصے سے معاونت کرتا آرہا ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ بھارت کسی غیر ملکی بندرگاہ کا انتظام و انصرام اپنے ہاتھ میں لے رہا ہے۔ چاہ بہار کے متصل پڑوس میں ہی چین بیلٹ روڈ منصوبے کے ساتھ توازن قائم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس منصوبے کی وساطت سے ایران کے علاوہ ہمارا ملک براہ راست اور بآسانی وسطی ایشیائی ریاستوں، افغانستان اور یوریشیا کی ریاستوں تک اپنے دائرہ اثر کو بڑھا سکتا ہے جو پاکستانی اکڑ کے باعث اور بھارت کے ساتھ خراب تعلقات کے ہونے کی وجہ سے کھٹائی میں پڑتا رہا ہے۔ واضح رہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت نے چند ماہ قبل ہی چاہ بہار کے راستے ایران کے ساتھ تجارتی سمجھوتہ کیا ہے۔ اس طرح ایران عرب ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر کرنے پر بھی زور دے رہا ہے اس کے لیے زمینی سڑک اور ریلوے کے مشترکہ توسیع کا پروگرام بھی بنارہا ہے۔ اس لیے چاہ بہار منصوبہ عرب ممالک سے تعلقات کا براہ راست اور بہت خاص ذریعہ بن سکتا ہے۔ بھارت اس پر کئی سالوں سے بڑی رقم بھی خرچ کرتا آرہا ہے ۔ اس کے علاوہ ہمارے ملک نے ٹرمینل کی تعمیر اور ترقی کے لیے 85 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ بھی کیا۔ سابق میں امریکہ نے ایران کو سبق سکھانے کے لیے کئی طرح پابندیاں بھی لگادی تھیں جس کی وجہ سے بندرگاہ کا کام تعطل کا شکار ہوگیا تھا۔ اس کے بعد بھارتی معاونت بھی دھیمی پڑگئی مگر 2016 میں وزیر اعظم مودی نے اپنے سفر ایران کے دوران سمجھوتہ پر دستخط کرتے ہوئے اس پروجیکٹ کو تیزی سے بڑھانے کا وعدہ کیا۔ اس کے بعد وزیر خارجہ کے دورہ ایران کے بعد یہ معاہدہ انجام کو پہنچا۔ آج بھی ایران کے تعلقات مغربی ممالک اور امریکہ کی اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی اور غیر انسانی حمایت کی وجہ سے بے انتہا کشیدہ ہیں کیوں کہ ایران اسرائیل کے ناپاک و ناجائز وجود کو تسلیم نہیں کرتا۔ مگر بھارت اپنی آزاد خارجہ پالیسی کے تحت مثبت طور پر اپنے تعلقات بہتر رکھنے کے منشا کے مد نظر ایران و روس کے ساتھ اچھے اور دوستانہ رویے پر کار بند ہے۔ اس لیے توقع کی جاتی ہے کہ چاہ بہار پروجیکٹس پر بین الاقوامی تناو کا اثر کم ہی ہوگا۔ اب اس بندرگاہ سے بحر ہند کے خطہ اور بھارتی بازار تک وسطی ایشیا کی رہنمائی کے ساتھ بھارتی سرمایہ کاروں اور تاجروں کو اچھا موقع ملے گا۔چاہ بہار سمجھوتہ ایران اور بھارت دونوں کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ پاکستان کے ساتھ ہمارے خراب تعلقات کی وجہ سے افغانستان اور وسطی ایشیا سے بھی ہمارے تعلقات منجمد ہوکر رہ گئے ہیں۔ چند ماہ قبل ہی جب بھارت انسانی امداد کی شکل میں پچاس ہزار ٹن اناج افغانستان بھیجنا چاہتا تھا تب پاکستان حسب عادت بہت دنوں تک راہ داری فراہم کرنے سے گریز کر رہا تھا جب کہ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ افغانستان ایک مسلم ملک ہونے کی وجہ سے اس کا دوست ہے ۔ایسے میں ہمارے لیے ایک متبادل راستہ ضروری ہوگیا تھا۔ ہمارا ملک پہلے سے ہی روس اور ایران کے ساتھ انٹرنیشنل نارتھ ساوتھ کوریڈور کی ترقی کے لیے کوشاں ہے۔ اسی ضمن میں چاہ بہار منصوبہ بھی تشکیل پایا جس پر 2003 سے مسلسل کام ہو رہا ہے ۔ بھارت نے اس بندرگاہ میں شہید بہشتی ٹرمینل کی تعمیر کی ہے اور بہیترے کمپنیاں اس منصوبے سے جڑی ہوئی ہیں مگر کام زیادہ تیزی سے نہیں ہو پا رہا تھا۔ کیونکہ ایران پر مغربی ممالک اور امریکہ نے کئی طرح کی پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ امریکہ جیسا چاہے کہے بھارت چاہ بہار کو لے کر بے حد سنجیدہ ہے۔ امریکہ اور بھارت کے درمیان اصولی سمجھوتہ ہے جس کے تحت فریقین کے درمیان گفتگو ہو سکتی ہے جس کے ذریعے بھارت اپنے مسئلے کو پیش کرسکے گا اور امید ہے کہ امریکہ کو بھی اس مسئلہ کو بہتر طریقے سے سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ اس پر بھارت کو کسی کے دباو میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ بھارت کے لیے اپنے ملک کا مفاد زیادہ اہم ہے اور وسطی ایشیاء کے ساتھ تال میل کے لیے انٹرنیشنل کوریڈور انتہائی ضروری ہے۔ چاہ بہار اس کا ایک حصہ بن سکتا ہے۔ جبکہ امریکہ کا دباو اسے ختم کرنے تلا رہے گا لیکن ہمیں اپنے موقف پر قائم رہنا ہوگا۔ فی الحال افغانستان میں امن و امان اور استحکام ایک اہم موضوع ہے جس میں بھارت اپنا تعاون پیش کرسکتا ہے۔ وسطی ایشیائی ممالک طویل عرصے سے چین اور روس کے درمیان بطور پنڈولم جھولتے رہے ہیں۔ انہیں بھی اب ایک تیسرے ملک کی ضرورت ہے۔ وہ بھارت سے اپنے تعلقات بڑھانے کے ساتھ ساتھ ترکی اور امریکہ سے بھی قربت بڑھا پائیں گے۔

یہ بات عجیب لگتی ہے کہ سمجھوتہ ہونے کے ساتھ امریکی خارجہ محکمہ کا بیان آیا کہ جو ملک بھی ایران سے معاشی تعلقات رکھے گا اسے بھی ممکنہ پابندیوں کے دائروں میں لایا جا سکتا ہے۔ وہ اس سے اچھی طرح واقف ہے کہ افغانستان کو امداد کی ضرورت ہے تاکہ وہ مصائب اور عدم استحکام سے فی الفور نجات پائے۔ یہ وسطی ایشیاء خود امریکہ کے لیے کافی اہم ہے اور اس علاقے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا کر اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ بھارت کے ساتھ مل کر وسطی ایشیاء میں اپنا پاؤں پسار سکتا ہے اس لیے چاہ بہار سمجھوتہ میں اگر رکاوٹ پیدا کرے تو یہ اس کی نا سمجھی ہوگی۔ امریکہ اپنی اس شاخ کو ہرگز نہیں کاٹے گا جس پر وہ خود بیٹھا ہوا ہے۔ امریکہ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ چاہ بہار کا منصوبہ پورے خطہ کے لیے مفید ہے۔ اسی وجہ سے اس نے اسے پابندیوں سے دور رکھا ہے۔ جنگی حالات میں جو اسرائیل و فلسطین کے درمیان جاری ہیں اگر امریکہ ایسا کرتا ہے تو اس سے ہمارے ملک کو نقصان تو ہوگا ہی مگر امریکہ کو کسی طرح کا فائدہ نہیں ہوگا۔ لیکن امریکہ حسب عادت بیان بازی کرتا رہے گا لیکن بعد میں اسے سمجھ آجائے گی کہ چاہ بہار کیوں اہم ہے۔ اب ہمیں واضح کرنا چاہیے کہ روس و ایران، جن پر مغربی ممالک اور امریکہ نے بے حساب پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، اگر ان ممالک کو کسی وقت اپنا مفاد نظر آئے گا تو امریکہ ضرور رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کرے گا۔ اکثر پابندیوں کی زد میں دیگر ممالک بھی آتے ہیں جو ایک چیلنج ہی ہے جس سے ہمیں خبردار رہنا چاہیے۔ حکومت نہیں کہتی  کہ اسے پریشانیوں کا سامنا ہے مگر نجی کمپنیوں کو اپنے نقصان کا اندیشہ رہتا ہے۔ بھارت اور ایران کے درمیان یہ ایسا سمجھوتہ ہوا ہے جسے پاکستان اور چین کے لیے جھٹکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بھارت نے یہ سمجھوتہ چاہ بہار میں واقع شہید بہشتی بندرگاہ کے لیے کیا ہے۔ یہ بندرگاہ ایران کی دوسری بڑی بندرگاہ ہے۔ یہ سمجھوتہ انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹیڈ اور پورٹس اینڈ مری ٹائم آرگنائزیشن آف ایران کے درمیان ہوا ہے۔ بھارت کے وزیر جہاز رانی سربانند سونو وال نے ایران پہنچ کر اپنے ایرانی ہم رتبہ کے ساتھ اس اہم سمجھوتہ پر دستخط کیے۔ پاکستان اور چین مل کر ایرانی سرحد کے قریب گوادر پورٹ کو ترقی دے رہے ہیں۔ بھارت اور افغانستان کو جوڑنے والے چاہ بہار پورٹ کو گوادر پورٹ کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹر کے مطابق آئی پی جی ایل تقریباً 120 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ اس کے علاوہ 250 ملین ڈالر کی مالی مدد بھی دے گی جیسا کہ اوپر کی سطور میں واضح کیا گیا ہے کہ بھارت اس بندرگاہ کے ذریعہ افغانستان اور وسطی ایشیا تک اپنی رسائی کو سہل کرنا چاہتا ہے اور اس بندرگاہ سے بھارت کا لاجسٹک اور سیاسی و معاشی مفاد وابستہ ہے۔ چاہ بہار، بحر عرب میں چین کی موجودگی کو چیلنج کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، کیونکہ پاکستان میں گوادر پورٹ بذریعہ سڑک چاہ بہار سے 400 کلو میٹر دور ہے جبکہ بذریعہ آبی شاہراہ یہ محض سو کلو میٹر ہے۔ اس طرح گوادر اور چاہ بہار سمجھوتہ پر چین اور بھارت کے درمیان ٹکراو ہے کیونکہ گوادر میں چینی موجودگی بھارت کے لیے کبھی بھی مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔

انتخابی نتائج سے قطع نظر، مسلمان ملک کی ترقی اور نفرت کا مقابلہ کرنے میں فعال رول ادا کریں

جمہوری اقدار کے زوال کے لیے حکم رانوں کی پالیساں اور روّیے ذمہ دار: پروفیسر محمد سلیم انجینئر 

اقتدار کی تبدیلی مسئلہ کا حل نہیں ۔ مسلمانوں کو ہر حال میں مایوسی سے بچنے اور ملک میں خیرامت کا کردار ادا کرنے کی ضرورت

انوارالحق بیگ

نئی دلی:  ایک ایسے وقت میں جب کہ کچھ سیاسی لیڈر لوک سبھا انتخابات کی مہم میں اپنی تقریروں اور ریلیوں میں تفرقہ انگیز مسائل اٹھا کر ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جماعت اسلامی ہند نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ ’خیر امت‘ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ملک سے نفرت کے خاتمہ اور ترقی کے لیے کام کریں۔ نائب امیر جماعت اسلامی ہند پروفیسر محمد سلیم انجینئر نے پچھلے دنوں مرکز جماعت، دلی میں دانشوروں، ماہرین تعلیم اور سماجی و سیاسی کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان  انتخابی نتائج سے قطع نظر ایک ذمہ دار شہری کے طور پر تمام انسانوں کی فلاح و بہبود، انصاف کی بالادستی اور ملک کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

 فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے کے پر زور حامی، پروفیسر سلیم انجینئر نے موجودہ سماجی و سیاسی منظر نامے کا ایک جامع تجزیہ پیش کیا اور بتایا کہ ایک کمیونٹی کے طور پر مسلمان معاشرے کی فلاح وبہبود کے لیے کیا رول ادا کر سکتے ہیں۔ اس اجلاس میں مختلف ملی رہنماؤں نے شرکت کی جس میں  انتخابات اور ملک کی جمہوریت اور سماجی تانے بانے پر پڑنے والے وسیع اثرات پر توجہ مرکوز کی گئی۔

سب سے بڑی جمہوریت کے لیے اہم انتخابات

ملک میں 97 کروڑ رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن میں ملک کی کل 140 کروڑ آبادی میں سے ایک اندازے کے مطابق 14 کروڑ مسلم ووٹرز شامل ہیں جو بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بناتے ہیں۔ اس حوالے سے پروفیسر محمد سلیم انجینئر نے نشان دہی کی کہ ڈیڑھ ماہ پر محیط انتخابات ملک میں جمہوری عمل کی وسعت اور پیچیدگی کا ثبوت ہیں۔ پولنگ لگ بھگ مکمل ہو چکی ہے اور نتائج کا اعلان 4 جون کو کیا جائے گا۔

جمہوری اقدار خطرے میں

گزشتہ ایک دہائی کے دوران جمہوری اقدار کے زوال پر گہری تشویش ظاہر کرتے پروفیسر محمد سلیم انجینئر نے اس کے لیے موجودہ حکم رانوں کی پالیسیوں اور روّیوں کو ذمہ دار ٹھیرایا ہے۔ انہوں نے جمہوری اداروں کے کمزور ہونے اور خاص طور پر مسلمانوں کے لیے جو تیزی سے نشانہ بن رہے ہیں، باہمی محبت اور سلامتی کے زوال پذیر تانے بانے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارا معاشرہ گزشتہ ایک دہائی سے اقتدار میں رہنے والوں کی پالیسیوں اور رویوں کی وجہ سے جس صورتحال سے دوچار ہے وہ انتہائی تشویش ناک امر ہے۔‘‘

نائب امیر جماعت اسلامی ہند نے خبر دار کیا کہ یہ منفی تبدیلیاں نہ صرف مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ پورے ملک کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ سماجی بندھنوں کا کمزور ہونا اور مسلمانوں میں خوف اور عدم تحفظ کا بڑھنا ملک کی ترقی اور امن کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپسی محبت اور احترام جو اس ملک کے شہریوں کو باندھنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، شدید خطرے میں ہے، خاص طور پر مسلم کمیونٹی کے لیے، جسے غیر متناسب طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔

پروفیسر محمد سلیم انجینئر نے مسلمانوں کو ایک ذمہ دار شہری کے طور پر جمہوری عمل میں فعال طور پر حصہ لینے کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے انصاف، امن اور سب کے لیے ترقی کی وکالت کی۔ انہوں نے کہا کہ سماجی سطح پر ہونے والا نقصان اتنا بڑا ہے کہ اسے ٹھیک کرنے کے لیے ایک طویل وقت اور ٹھوس کوششیں درکار ہوں گی۔ لیکن ہمارا کردار  جمہوریت کی بنیادوں، آئین اور حقوق کی حفاظت کرنا ہے۔

ما بعد انتخابات تین امکانی منظر ناموں پر زور دیتے ہوئے کہ موجودہ انتخابات صرف ایک اور سیاسی واقعہ نہیں ہے بلکہ ملک کے لیے ایک اہم لمحہ ہے۔ پروفیسر سلیم نے زور دے کر کہا کہ یہ نتیجہ ہندوستان میں جمہوریت اور سماجی ہم آہنگی کے مستقبل کو تشکیل دے گا۔ انہوں نے انتخابات کے بعد کے تین امکانی منظر ناموں کا خاکہ پیش کیا، جن میں سے ہر ایک ملک اور مسلمانوں کے لیے مختلف مضمرات رکھتا ہے۔

سب سے پہلے موجودہ قوتیں، جنہیں وہ ملک کے لیے خطرہ اور مسلمانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھتے ہیں، نئی طاقت کے ساتھ اقتدار میں واپس آسکتی ہیں۔ ’’یہ قوتیں، اپنے تفرقہ انگیز ایجنڈے کے ساتھ، ہماری قوم کے سماجی تانے بانے اور جمہوری بنیادوں کو مزید نقصان پہنچائیں گی۔ اس سے قوم مزید انتشار اور مشکلات میں ڈوب جائے گی، اقلیتی برادری کے لیے مزید مسائل پیدا ہوں گے‘‘۔

دوسرے منظر نامے میں، موجودہ حکم راں قوتیں اپنی طاقت میں کمی دیکھ سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں ایک کمزور حکومت اتحاد پر منحصر رہے گی۔ اگرچہ یہ ان کے ایجنڈے کو سست کر دے گا لیکن وہ پھر بھی اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لیے حکومتی اداروں کا غلط استعمال کر سکتے ہیں۔

پروفیسر محمد سلیم انجینئر کے مطابق تیسرا اور سب سے زیادہ مطلوب منظرنامہ اپوزیشن اتحاد کی جیت ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ یہ نتیجہ ایک مکمل حل نہیں بلکہ جمہوری اقدار اور سماجی ہم آہنگی کی بحالی کی طرف ایک اہم قدم ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا ’’یہ ہماری خواہش اور کوشش ہے اور اب تک ہونے والے انتخابات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسی نتیجہ کا امکان بھی ہے۔‘‘

اگر اپوزیشن اقتدار میں آتی ہے، تو انہوں نے بہت زیادہ خوش فہمی میں مبتلا نہ رہنے کا مشورہ دیا، کیونکہ موجودہ صورتحال کی بنیادی وجوہات ماضی کی حکومتوں کی پالیسیوں اور اقدامات میں تلاش کی جا سکتی ہیں جو ’سیکولر پارٹیاں‘ کہلاتی ہیں ان کی حکم رانی چھ دہوں پر محیط رہی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے مایوسی کو مسترد کردیا اور اس بات پر زور دیا کہ اگر موجودہ قوتیں اقتدار برقرار رکھتی ہیں، تب بھی ملت میں چیلنجوں پر قابو پانے کی طاقت ہے۔

چیلنجوں کے باوجود، مایوسی نہیں اور امید برقرار 

وسیع تر چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر محمد سلیم انجینئر نے مایوسی کی اس کیفیت سے خبردار کیا کہ ان کی خواہشات کے خلاف حکومت، اسلام اور مسلمانوں کے لیے تباہی کا باعث بنے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’’حکومت چاہے ہماری مرضی کے مطابق بنائی جائے یا اس کے خلاف، ہمیں اس ملک کے ذمہ دار شہریوں کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کے ارکان کی حیثیت سے مثبت انداز اپنانا چاہیے۔‘‘

نائب امیر جماعت نے متنبہ کیا کہ ’’یہ نا امیدی کا تصور کہ اگر موجودہ طاقتیں اقتدار میں آئیں گی تو سب کچھ ختم ہو جائے گا، نہ انتخابات ہوں گے نہ اسلام رہے گا نہ مسلمان باقی رہے گا، حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ مایوسی کا یہی ذہن ہمارے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہے۔‘‘

دنیا بھر میں اسلاموفوبیا اور اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کی بڑھتی ہوئی لہر کو تسلیم کرتے ہوئے انہوں نے مثالی طرز عمل اور کردار کے ذریعے ان بیانیوں کا مقابلہ کرنے کی ہنگامی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’’اسلام کی اصل طاقت اس کی اخلاقی تعلیمات میں مضمر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب افراد اسلام قبول کرتے ہیں تو ان کے اخلاقی تانے بانے بلند ہوتے ہیں اور کوئی بھی طاقت نیک کردار کی طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکتی‘‘۔

قرآن مجید کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے حاضرین کو انسانیت کی فلاح و بہبود، انصاف اور انسانی وقار کو برقرار رکھنے اور ملک کو دنیا و آخرت میں ترقی و خوشحالی کی طرف رہنمائی کرنے کے لیے ’’بہترین امت‘‘ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری یاد دلائیں۔ انہوں نے کہا ’’جب ہم اس تصور کے ساتھ آگے بڑھیں گے تو موجودہ چیلنجز اتنے مشکل نہیں لگیں گے۔ وہ صرف اس لیے مضبوط دکھائی دیتے ہیں کہ ہم نے اپنی سوچ کو محدود کر رکھا ہے‘‘

پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ ’’خوف اور مایوسی کو ہمارے دلوں میں یا ملک کے دوسرے شہریوں میں جگہ نہیں ملنی چاہیے۔ ہم کسی بھی صورت حال کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ ہم اللہ لا شریک لہ کی لا محدود قدرت پر یقین رکھتے ہیں۔ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں ہمیں ہر حال میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس مضبوط، پر امید جذبے کی اہمیت پر زور دیا، جس کی جڑیں ایمان میں پیوست ہوتی ہیں۔ مسلمانوں کو اسلام کی حقیقی تعلیمات عوام تک پہنچاتے ہوئے مصروف شہریوں کے طور پر ذمہ داریاں نبھانے کے لیے صحیح ماحول پیدا کرنا ہوگا۔ انہوں نے حاضرین کو یاد دلایا کہ اصل چیلنج مسلم امت کے ذمہ دار فرد اور ارکان کے طور پر اپنے کردار کو برقرار رکھنے میں ہے۔

مشغولیت اور تعمیری شرکت

انتخابی نتائج سے قطع نظر، پروفیسر سلیم انجینئر نے تعاون کرنے اور چوکس رہنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اچھے کام کی تعریف کے ساتھ ساتھ غلط کام پر سخت تنقید بھی کی جانی چاہیے، لیکن یہ تعصبات کی بجائے اصولوں کی بنیاد پر ہو۔

منتخب نمائندوں کی سیاسی وابستگی سے قطع نظر ان کے ساتھ مسلسل مشغولیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر انتخابی نتائج سازگار نہ ہوں تب بھی مسلمانوں کو حکومت اور نمائندوں کے ساتھ تعمیری انداز میں مشغول ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اب اگر ہم نے ان کے خلاف ووٹ دیا ہے تو بھی اپنے نمائندے کی حیثیت سے ان پر نظر رکھنا، ان سے سوال کرنا، ان کی اچھی باتوں کو سراہنا، ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔

نائب امیر جماعت اسلامی ہند نے واضح کیا کہ ’’ہماری مصروفیت کسی فائدے کے حصول کے لیے نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس لیے کہ وہ ہمارا نمائندہ ہے۔ اسی طرح ہماری مخالفت بھی اصولوں پر مبنی اور ملک کی فلاح و بہبود کے لیے ہونی چاہیے۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہماری مصروفیت کا مقصد حکم رانی کو بہتر بنانا اور جمہوری اور

انسانی اقدار کا تحفظ کرنا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ جو بھی حکومت بنتی ہے اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگر حکومت ہماری خواہش کے خلاف بنتی ہے تو ایسا نہیں ہے کہ ہم اس سے تمام تعلق ختم کر دیں گے۔ ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے ہمیں قائم ہونے والی حکومت پر نظر رکھنی ہوگی، اس کے ہر عمل کی ذمہ داری لینی ہوگی اور اسے بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کرنی ہوگی۔

امت مسلمہ کا کردار: وسیع تر مشن

پروفیسر محمد سلیم انجینئر نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم کمیونٹی کو انتخابی نتائج یا تین ممکنہ حالات کو صرف برادری کی جیت یا ہار کی عینک سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ ’’ہم محض ایک برادری نہیں ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر ایک امت ہیں، ایک ایسا گروہ جس کا مقصد اور مشن برادری کے حقیر مفادات سے بالاتر ہے۔

انہوں نے حاضرین اور ملک بھر کے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ ایک محدود ’کمیونٹی‘ والی ذہنیت سے آگے بڑھ کر ایک عظیم مشن کے ساتھ اپنے عظیم کردار کو قبول کریں، ملک کے تمام لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں، انصاف، وقار، تکثیریت کو فروغ دیں اور اپنے عمل اور کردار سے اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اسلام کی اخلاقی طاقت کا مظاہرہ کرنے اور اپنے خلاف نفرت کی جھوٹی داستانوں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستانی معاشرے کو ابھی تک صحیح معنوں میں اسلام کی تعلیمات اور مسلمانوں کے طرز عمل کی اخلاقی طاقت کا تجربہ کرنا باقی ہے۔ لہذا بہتر اشتراک اور اچھے طرز عمل کے ذریعے اس کو فروغ دینا ہمارا اہم طویل مدتی مقصد ہونا چاہیے۔ 

نائب امیر جماعت اسلامی ہند نے نشان دہی کی کہ چیلنجوں کے باوجود، ہندوستانی معاشرے میں ایک مثبت پہلو باقی ہے۔ یہاں ایک بڑی آبادی ہے جو خدا اور مذہب پر یقین رکھتی ہے اور سچائی کو قبول کرنے کی سوجھ بوجھ رکھتی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں اور پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلام کی حقیقی تعلیمات اور اس کے اخلاقی اقدار کو پیش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ہم وطنوں کے ساتھ گہرے روابط استوار کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے پروفیسر سلیم انجینئر نے مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنے کاموں کے ذریعے لوگوں تک پہنچیں، بات چیت کریں اور اعتماد پیدا کریں۔ ’’ہم کسی کے دشمن یا حریف نہیں ہیں۔ اسلام پوری دنیا کے لیے رحمت ہے اور اس پر ایمان رکھنے والا مسلمان جہاں بھی رہے گا اس کے لیے رحمت ہی رہے گا۔ بہت سے لوگ غلط معلومات اور پروپیگنڈے کا شکار ہیں،‘‘

اپنی تقریر کے اختتام پر پروفیسر سلیم نے مسلمانوں کو انتخابی نتائج سے قطع نظر پر امید اور مثبت رہنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا ’’اس ملک کے لوگوں کے ساتھ ہمارا رشتہ گہرا رشتہ ہونا چاہیے۔ انتخابات آئیں گے اور جائیں گے، حکومتیں بنیں گی، لیکن ہماری بنیادی اور طویل المدتی ذمہ داری ہے کہ ہم تمام ہم وطنوں کے ساتھ قریبی تعلقات کو فروغ دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ اسلام کا پیغام ہمارے اچھے طرز عمل کے ذریعے ان تک پہنچے‘‘۔

پروفیسر سلیم انجینئر نے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے والوں سمیت تمام طبقوں کے ساتھ کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ ان کی اصلاح اور سچائی کو پہنچانے کے لیے خلوص نیت سے کام کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے سامعین کو یاد دلایا کہ زیادہ تر لوگ اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کو پیدا کرتے ہیں جس کی وجہ درست معلومات کی کمی یا آدھا سچ ہے۔ انہوں نے انہیں ایک شہری اور امت مسلمہ کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے مسلمانوں کو ان کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کراتے ہوئے ملک کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا۔ دعا پر اجتماع کا اختتام عمل میں آیا۔

حزبِ اختلاف کا بہترین اتحا د

1975 کے بعد سے اپوزیشن اس قدر متحد کبھی نہیں رہا جتنا آج ہے

سیفولیجسٹوں کے شماریاتی تجزیے بھی مختلف بیانیے پیش کر رہے ہیں

محمد آصف اقبال، نئی دہلی

  ہندوستان کی سیاست سے واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں کہ 1975 کے بعد اپوزیشن اگر متحد ہوئی ہے تو آج 2024 کی اپوزیشن پارٹیاں ہیں۔ کیوں کہ 1975 اور 2024 سے پہلے تک اپوزیشن اس قدر منظم انداز میں کبھی متحد نہیں ہوئی اور اس بات سے شاید آپ بھی بخوبی واقف  ہوں گے کہ 1975میں جب اندرا گاندھی کے انتخابات میں بدعنوانی کے الزامات عدالت میں درست ثابت ہوئے تو جے پرکاش نارائن عرف جے پی نے اندرا گاندھی سے استعفیٰ دینے کے لیے کہا تھا، ساتھ ہی انہوں نے اندرا گاندھی کے خلاف ملک گیر تحریک شروع کی تھی جسے انہوں نے مکمل انقلاب کا نام دیا تھا۔ اس پر اندرا گاندھی نے ایمرجنسی کا اعلان کیا اور جے پی کے علاوہ دیگر اپوزیشن لیڈروں کو گرفتار کر لیا۔ جے پی کی گرفتاری کے خلاف دہلی کے رام لیلا میدان میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں نے احتجاج کیا۔ اس وقت رام دھاری سنگھ دنکر نے کہا تھا ’سنہاسن خالی کرو کہ جنتا آتی ہے‘۔ جنوری 1977 میں ایمرجنسی اٹھا لی گئی۔ لوک نائک کے ’مکمل انقلاب‘ کی وجہ سے ملک میں پہلی بار غیر کانگریسی حکومت قائم ہوئی۔جے پی کو 1999 میں حکومت ہند نے بھارت رتن اور 1965 میں سماجی خدمات پر میگسیسے ایوارڈ سے نوازا تھا۔ دوسری جانب آج 2024 ہے جب اپوزیشن جماعتیں نظریاتی اختلافات کے باوجود، پالیسی پروگرام اور طریقہ سیاست سے حد درجہ مختلف ہونے کے باوجود کچھ سافٹ ہندتو کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہیں تو کچھ ہارڈ ہندتو کے ایجنڈے پر۔ یہاں تک کہ سیکولر، سوشلسٹ اور کمیونسٹ و دیگر جماعتیں سب ایک جگہ نہ صرف متحد ہوگئے ہیں بلکہ اپنے اپنے دائرے میں حد درجہ سرگرم عمل بھی ہیں۔جس کو جس قدر وقت مل رہا ہے اس کا وہ بھر پور استعمال کر رہا ہے۔ کسی کو جیل سے چند دن کے لیے ضمانت ملی ہے تو وہ دن رات مصروف عمل ہے۔ کسی کے پیر میں بے انتہا درد ہے، چلنا دو بھر ہے، اس کے باوجود وہ ریلیوں پر ریلیاں کر رہا ہے یہاں تک کہ اس نے خود اپنے سارے سابقہ ریکارڈ توڑ ڈالے۔ کوئی بیمار ہے، کوئی عمر کے تقاضے کی بنا پر کمزروی میں مبتلا ہے، کسی کا شوہر جیل میں ہے تو وہ بذات خود سر دھڑ کی بازی لگا کر میدان سیاست میں مصروف ہے، کسی کو اندرون تو کسی کو بیرونی طور پر متعلقہ اپوزیشن سیاسی پارٹی سے الگ ہوجانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ عورت، مرد، جوان، بوڑھے سب وقت کا ہر ممکن استعمال کرنے اور برسر اقتدار حکومت کو ہٹانے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔ اس کے باوجود کچھ لا علم حضرات اس بات پر گفتگو کرتے نظر آتے ہیں کہ اپوزیشن کمزور ہے، وہ اس قدر سرگرم نہیں جتنی کہ ہونی چاہیے، سیول سوسائٹی ہی سارا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہے اور اس کی کوشش بھی ایک حد تک ہی ہے، ایسے میں حکومت تبدیل ہوجائے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ یہ اور اس سے ملتی جلتی باتیں بھی سننے میں آرہی ہیں۔تو اب توجہ فرمائیے کہ وہ اپوزیشن پارٹیاں جو 1975 کے بعد سے آج تک متحد ہوتی نظر نہیں آئیں، وہ عوام کو سرگرم نظر نہیں آرہی ہیں تو آخر ایسا کیوں ہے؟

ہندوستانی سیاست کے چند توجہ طلب پہلو:

دوسری جانب اسی ہندوستانی سیاست کے گلیاروں میں یہ خبر بھی عام ہے کہ حال ہی میں ہندوستان میں برسراقتدار ہندو قوم پرست بی جے پی کے قومی ترجمان سدھانشو ترویدی دور کی کوڑی لاکر باضابطہ 5؍ دسمبر 2023 کے پارلیمنٹ کے ونٹر سیشن اجلاس میں بتا رہے تھے کہ بابری مسجد کی شہادت، رام مندر کی تعمیر اور ہندوستان کی اقتصادی ترقی کے درمیان براہ راست رشتہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب 1992 میں مسجد کو مسمار کیا گیا تو ہندوستان میں غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کا حجم ایک بلین ڈالر تھا۔ جب 2003 میں محکمہ آثار قدیمہ نے مسجد کے ملبہ تلے کھدائی کرکے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ آیا اس کی تعمیر کسی مندر کے اوپر کی گئی تھی، تو غیر ملکی زر مبادلہ کا حجم 100 بلین ڈالر پہنچ گیا۔ جس وقت سپریم کورٹ نے مسمار شدہ مسجد کی اراضی ہندوؤں کے حوالے کرکے رام مندر کی تعمیر کا راستہ صاف کردیا تو غیر ملکی کرنسی کا حجم 500 بلین ڈالر ہوگیا اور جب اس سال کے اوائل میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ایودھیا میں اس مسجد کی جگہ عالیشان رام مندر کا افتتاح کیا تو غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر 600 بلین ڈالر تک پہنچ گئے۔ یعنی وہ غالباً یہ کہنا چاہتے کہ اگر وشو ہندو پریشد کی لسٹ جس میں وہ تقریباً 25 ہزار مساجد کا دعویٰ کرتے ہیں، ان کو مسمار کرکے مندروں میں تبدیل کیا جاتا ہے، تو ہندوستان کے پاس دولت کے اتنے ذخائر ہوں گے کہ ان کو رکھنے کے لیے جگہ بھی کم پڑے گی۔یہ بیان اور بیانیہ باضابطہ اشتعال دلانے والا اور دیگر عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کی سمت ایک طرح کا ڈائریکشن تھا۔ وہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مئی 1950 کو ملک

کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے خبردار کیا تھا کہ فرقہ واریت ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ملک کو چیلنج پاکستان کی طرف سے اتنا زیادہ نہیں جتنا اپنے ان لوگوں کی طرف سے ہے جو فرقہ وارانہ خطوط پر سوچتے ہیں۔ 1958 میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے اجلاس میں انہوں نے اکثریتی طبقہ کی فرقہ پرستی کو ملک کے لیے سب سے خطرناک بتایا تھا، مگر بعد میں اندرا گاندھی کے دور میں اس جانب کچھ جھکاؤ دیکھا گیا کیوں کہ اندرا  گاندھی اس وقت کئی وجوہات کے سبب سیکولرازم اور نہرو کے اصولوں سے دور ہٹ گئی تھیں۔

ووٹر ٹرن آؤٹ ڈیٹا،الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ آف انڈیا:

  کہا جاتا ہے کہ 2014 اور 2019 کے بعد اگرچہ اندرا گاندھی کی طرح موجودہ حکومت نے ایمرجنسی کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے لیکن اس نے غیر اعلان شدہ ایمرجنسی نے لگائی ہوئی ہے۔ جس کے نتیجہ میں سیاسی جماعتیں، حکومتی ادارے اور عوام بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اور اب جبکہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات جاری ہیں، اس درمیان ووٹر ٹرن آؤٹ ڈیٹا کا مسئلہ اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے ایک اہم مسئلہ بنا کر اٹھایا جارہا ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کو پہلے مرحلے کی حتمی ووٹنگ فیصد جاری کرنے میں گیارہ دنوں کی تاخیر کے بعد تین مراحل کے حتمی اعداد و شمار جاری کرنے میں اس نے مزید چار دنوں کا وقت لیا تھا اور ووٹنگ فیصد کے اعداد و شمار کو شائع کرنے میں تاخیر اور حتمی اعداد و شمار اور ووٹنگ کے دن ابتدائی طور پر جاری کیے گئے اعداد و شمار کے درمیان پاے جانے والے فرق پر کمیشن کو بڑے پیمانے پر مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔یہاں تک کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا، لیکن سپریم کورٹ نے 24 مئی کو اپنی ویب سائٹ پر پولنگ بوتھ کے حساب سے ووٹر ٹرن آؤٹ ڈیٹا اپ لوڈ کرنے کے لیے ایک این جی او کی درخواست پر الیکشن کمیشن کو کوئی عبوری ہدایت جاری کرنے سے انکار کر دیا اور لوک سبھا انتخابات کے درمیان ہاتھ باندھ دینے کا رویہ “hands-off attitude” کی حمایت کی۔ تاہم، عدالت عظمیٰ نے اس معاملے کو جولائی میں مزید سماعت کے لیے درج کیا اور واضح کیا کہ وہ 2019 میں دائر کی گئی اصل درخواست میں ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک رائٹس (ADR) کی طرف سے اٹھائے گئے مسئلے کی خوبیوں پر کوئی مشاہدہ نہیں کر رہی ہے۔ “ہم عمل میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتے۔ ہم بھی ذمہ دار شہری ہیں۔ آئیے کسی اتھارٹی پر بھروسا کریں۔ ہم اس درخواست کو زیر التوا رکھیں گے اور الیکشن ختم ہونے کے بعد اس کی سماعت رٹ پٹیشن کے ساتھ کی جائے گی۔

الیکشن کمیشن نے 22مئی 2024کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس کے پاس فارم 17-سی کی بنیاد پر ووٹنگ فیصد سے متعلق ڈیٹا یا ہر پولنگ اسٹیشن پر ڈالے گئے ووٹوں کو ظاہر کرنے کا کوئی لیگل مینڈیٹ نہیں ہے اور اس طرح کے انکشافات کا غلط استعمال کیا جاسکتا ہے۔کمیشن نے یہ حلف نامہ ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) اور کامن کاز کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کے جواب میں داخل کیا، جس میں موجودہ لوک سبھا انتخابات میں ووٹنگ فیصد کے اعداد و شمار کو فوری طور پر شائع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ فارم 17-سی کی بنیاد پر تصدیق شدہ ووٹنگ فیصد ڈیٹا شیئر کرنے کے لیے الیکشن کمیشن پابند نہیں ہے، کمیشن نے اپنے حلف نامے میں کہا کہ یہ واضح کیا جاتا ہے کہ امیدوار یا اس کے ایجنٹ کے علاوہ کسی اور شخص کو فارم 17-سی فراہم کرنے کا کوئی قانونی حکم نہیں ہے۔ درخواست گزار الیکشن کے درمیان ایک درخواست دائر کر کے اختیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ قانون میں ایسا کوئی حق نہیں ہے۔ ساتھ ہی اپنے جواب میں، کمیشن نے فارم 17-سی کے ذریعے ووٹروں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کی اپنی قانونی ذمہ داری اور اپنے ایپ، ویب سائٹ اور پریس کانفرنسوں کے ذریعے ووٹنگ ڈیٹا کے غیر قانونی، ‘رضاکارانہ انکشاف’ کے درمیان فرق کو واضح کیا۔ 

2024 کے ایگزٹ پولس اور سیفولوجسٹ:

  سیفولوجی پولیٹیکل سائنس کا ایک شعبہ ہے جو امتحانات کے علاوہ انتخابات اور پولز کے شماریاتی تجزیہ سے متعلق ہے۔ جو لوگ سیفولوجی پر عمل کرتے ہیں انہیں ماہر سیفولوجسٹ کہا جاتا ہے۔ہمارے ملک میں بے شمار نیوز چینلس ہیں جن پر ماہرین ہر انتخابی مرحلے کے بعد اندازے لگانے شروع کر دیتے ہیں کہ کس مرحلے میں کون سی سیاسی پارٹی کو نتائج کے اعتبار سے کتنا فائدہ اور نقصان ہوسکتا ہے۔ وہیں چند معروف سیفولوجسٹ کے انٹرویوز بھی آج کل گفتگو کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک معروف سیفولوجسٹ وہ بھی ہیں جنہوں نے کبھی بی جے پی کو اقتدار تک پہنچانے کے لیے اپنی پروفیشنل خدمات دی تھیں۔بعد میں دلبرداشتہ ہونے کے بعد ایک بڑی ہندی ریاستی پارٹی کو انہوں نے خدمات دیں اور اس میں شمولیت بھی اختیار کرلی۔ کچھ عرصہ بعد وہ وہاں سے بھی دلبرداشتہ ہوئے اور پھر ہندی بیلٹ سے بنگالی بیلٹ میں جاکر مشہور ہوگئے۔مزید یہ کہ انہوں نے کانگریس پارٹی کو بھی میدان سیاست میں کھڑا کرنے کا بیڑا اٹھایا تھا او رتقریباً 600 صفحات کی پرزنٹیشن پیش کی تھی اور بعض ذرائع کے مطابق وہ پارٹی میں شمولیت بھی اختیار کرنا چاہتے تھے لیکن ڈیلنگ ٹھیک طرح نہ ہونے کی وجہ سے وہ یہاں سے بھی دلبرداشتہ ہوکر خود بہار کی سیاسی بساط پر اپنی زمین ہموار کرنے میں مصروف ہو گئے۔ انہیں کے چرچے ایک انٹریو کے بعد آج کل خوب ہو رہے ہیں اور ایک بار پھر محسوس ہوتا ہے کہ وہ جہاں سے چلے تھے وہیں پہنچ گئے ہیں۔ اگرچہ وہ بی جے پی حکومت کو اپنی پروفیشنل خدمات نہیں دے رہے ہیں اس کے باوجود وہ تیسری مرتبہ این ڈی اے کی حکومت بننے کے دعوے کررہے ہیں۔ توجہ فرمائیے کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ اسی لیے ہمارا ماننا ہے کہ اگرچہ ملکی سطح پر سیاسی پارٹیاں اور عوام کے درمیان حکومت کے تعلق سے رجحانات بہت واضح فرق کے ساتھ سامنے آرہے ہیں اس کے باوجود یہ میدان سیاست ہے یہاں کوئی ٹھیراؤ کی امید نہیں کی جاسکتی۔ یہ الگ بات ہے کہ ہوش مندی اور دانش مندی کے ساتھ وقت کے تقاضے کو پیش نظر رکھتے ہوئے شہریوں کو ووٹ کے حق کا استعمال کرنا چاہیے اور یہ بات بھی ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ انتخابی سیاست میں سرگرم ہونا کوئی حتمی نتیجہ نہیں ہے۔ بے شمار عوامی فلاح و بہود اور ملک و ملت کی فکری، نظریاتی اور شعوری ارتقا کے ایسے  ہزارہا کام ہیں جنہیں جاری رہنا چاہیے خواہ حکومت کسی  کی بھی بنے۔

انتخابی عمل میں شفافیت سے گریز جمہوریت کے لیے ایک بڑا خطرہ!

Leave a Reply

Your email address will not be published.